حقیقت پسندی
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت پسندی اگر آپ میدان میں ہوں اور بارش آجاۓ تو آپ بھاگ کر سایہ کے نیچے چلے جاتے ہیں یہ پسپائی نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندی ہے۔ اسی طرح اگر زلزلہ آجاۓ تو آپ گھر سے نکل کر کھلے میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ بھی پسپائی نہیں ہے بلکہ ایک فطری حقیقت کا اعتراف ہے۔ جہاں انسان کا اور فطرت کا معاملہ ہو وہاں مسئلہ کا حل صرف اعتراف ہوتا ہے، نہ کہ ٹکراؤ۔ بارش اور زلزلہ کا نظام جو خالق فطرت نے دنیا میں رکھ دیا ہے۔ انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ انسان صرف یہ کر سکتا ہے کہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچانے کی تدبیر کرے ۔ اور اس کے نقصان سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اعراض کا اصول اختیار کرتے ہوۓ اپنے آپ کو اس کی زد سے ہٹا دیا جاۓ۔ اس لیے آپ بارش کے وقت سابے میں آجاتے ہیں اور زلزلہ کے وقت میدان میں۔ ٹھیک یہی معاملہ صبر اور اعراض کے اصول کا بھی ہے۔ صبر و اعراض کا رویہ کسی قسم کی بزدلی یا پسپائی نہیں ہے۔ وہ سادہ طور پر صرف حقیقت پسندی ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ خالق فطرت نے انسان کو امتحان کی غرض سے آزادی عطا کی ہے ۔ انسان اپنی آزادی کا استعمال کبھی صحیح کرتا ہے اور کبھی غلط۔ اب آپ کیا کریں۔ اگر آپ ہر انسان سے لڑنے لگیں تو لوگوں سے آپ ان کی آزادی چھین نہیں سکتے۔ کیوں کہ یہ آزادی ان کو خود مالک کائنات نے دے رکھی ہے، لوگوں کی آزادی چھینے کی بے فائدہ کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آپ اپنے راستہ کو کھوٹا کر لیں گے۔ ایسی حالت میں صرف ایک ہی ممکن رویہ ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو صبر کہا جاتا ہے یعنی لوگوں کی طرف سے اگر کبھی تلخی اور نا گواری پیش آجاۓ تو اس سے اعراض کرتے ہوۓ اپنا سفر حیات جاری رکھا جاۓ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader