Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر و اعراض دوسروں کا مسئلہ نہیں، وہ خود اپنا مسئلہ ہے ۔ بے صبری آدمی کے سفر کو روک دیتی ہے، اور صبر اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ آدمی کی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔ انسانی فطرت ابو البرکات صاحب ( نظام پور ، اعظم گڑھ ) سے 3 دسمبر 1991 کو دہلی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں انھوں نے مندرجہ ذیل واقعہ بتایا۔ ضلع اعظم گڑھ میں ماہل کے قریب ہندوؤں کا ایک گاؤں ہے۔ اس کا نام ٹکریا (Tikurya) ہے۔ پڑوس کے گاؤں رسول پور سے ایک یا دو چوری کی غرض سے یہاں پہنچا۔ رات کا وقت تھا۔ ایک گھر کے پاس پہنچ کر اس نے اس کی کنڈی کھٹکھٹائی ۔ یہ بھی ایک یادو کا گھر تھا۔ اس نے اپنی بھانجی کی اپنے یہاں پرورش کی تھی، اس وقت صرف بھانجی گھر میں تھی۔ اس کا ماما ( ماموں ) کسی ضرورت سے باہر چلا گیا تھا۔ کنڈی کھٹکھٹانے کی آواز سن کر لڑکی دروازہ پر آئی ۔ اس نے سمجھا اس کا ماما واپس آیا ہے۔ تصدیق کے لیے اس نے اندر سے کہا ماما !۔ باہر کے آدمی نے یہ سن کر کہا ہاں۔ اس کے بعد لڑکی نے دروازہ کھول دیا۔ مگر جب دروازہ کھلا تو سامنے کوئی شخص دکھائی نہیں دیا۔ آخر کار وہ دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔ کچھ دیر کے بعد دوبارہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی ۔ لڑکی دوبارہ دروازہ پر آئی اور تصدیق کے لیے پھر کہا کہ ماما !۔ باہر سے آواز آئی کہ ہاں ۔ اب لڑکی نے دوبارہ دروازہ کھول دیا۔ معلوم ہوا کہ اس کا ماما واپس آیا ہے۔ ابھی دونوں دروازے ہی پر تھے کہ لڑکی نے کہا کہ اس سے پہلے آپ دروازہ کھلوا کر کہاں چلے گئے تھے۔ ماما نے کہا کہ میں تو اس سے پہلے نہیں آیا۔ لڑکی نے کہا کہ پھر کون تھا جس نے اس سے پہلے کنڈی کھٹکھٹائی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page