تعمیر حیات
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح اگر پورب کی طرف سے ہوا کا جھونکا آیا تو وہ پچھم کی طرف جھک گیا اور جب ہوا گزر گئی تو دوبارہ وہ پہلے کی طرح کھڑا ہو گیا۔ نرم پودا ایسا نہیں کرتا کہ وہ ہوا کے مقابلے میں اکڑ دکھائے۔ اگر وہ اکڑ دکھانے لگے اور جھکنے سے انکار کر دے تو اس کا نقصان ہوا کو نہیں پہنچے گا بلکہ خود پودا اپنی اکڑ کا شکار ہو جائے گا۔ ہوا بدستور فضاؤں میں چلتی رہے گی جب کہ پودا اپنی اکڑ کی بنیاد پر ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے گا۔ یہ پودے کی مثال کی صورت میں فطرت کا ایک سبق ہے جو انسان کو دیا جا رہا ہے۔ اس مثال کے ذریعہ انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم جس دنیا میں ہو وہاں ہواؤں کے جھونکے ہیں اور طوفانوں کے تھپیڑے ہیں۔ اس کے مقابلے میں تم بہت کمزور ہو۔ تمہیں ان جھونکوں اور ان تھپیڑوں کے مقابلے میں نرمی اور موافقت کا طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ تمہاری روش یہ ہونی چاہیے کہ اپنی اصل انسانی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے وقتی طور پر حالات سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرو۔ سختی کے ساتھ نرمی کو بھی اپنی زندگی کا ایک اصول بناؤ۔ ہوا کے مقابلے میں پودے کا جھکنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنی نشوونما کے عمل کو برابر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ پورا درخت بن جائے۔ اسی طرح انسان جب نرمی اور ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے سفر میں کوئی ٹھہراؤ نہ آئے۔ اس کا سفر مسلسل جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ نیا طلوع اس دنیا میں کوئی غروب آخری نہیں ۔ ہر غروب کے بعد ایک نیا طلوع مقدر ہے۔ بشرطیکہ آدمی اپنی شام کو دوبارہ صبح میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو— اس دنیا کا سب سے بڑا واقعہ روزانہ سورج کا ڈوبنا اور پھر دوبارہ اس کا نکلنا ہے۔ یہ سب سے بڑا واقعہ اس سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader