تعمیر حیات
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہوئے نہ بنائے بلکہ اپنی آرزوؤں کے زیر اثر بنائے۔ وہ گردو پیش کے دوسرے لوگوں سے بے خبر ہو جائے اور صرف اپنے آپ میں جینا شروع کر دے۔ وہ تاریخی قوتوں اور مادی اسباب کو نظر انداز کر دے اور محض اپنی خوش خیالیوں کی دنیا میں اپنا محل بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔ یہ دنیا حقائق اور اسباب کی دنیا ہے۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان، اور اسی طرح ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ یہاں بر تر ذہین اور بر تر لیاقت کا ثبوت دینے کے بعد ہی کسی کو جینے کا حق ملتا ہے۔ یہاں وہی لوگ سب سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی عقل کو سب سے زیادہ استعمال کریں، جو اپنی عقل سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ کوئی شخص لمبے عرصہ تک عیش و آرام میں رہے تو اس کی عقل مفلوج ہو جاتی ہے۔ کوئی قوم بہت دنوں حاکم بنی رہے تو اس کے بعد اس کی عقلی قوتیں جامد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وقت افراد اور قوموں کے لیے عقلی زوال کا ہوتا ہے، اور عقلی زوال آخر کار عملی زوال کا سبب بن جاتا ہے۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی عقلی قوتوں کو دوبارہ جگایا جائے تاکہ اس کی روشنی میں وہ اپنا سفر طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ پودے کی مثال فطرت کی دنیا میں جو نمونے قائم کیے گئے ہیں ان میں سے ایک نمونہ پودے کا نمونہ ہے۔ میدان میں ایک پودا اگتا ہے۔ وہ اپنے نرم تنے پر کھڑا ہوا ہے۔ ہواؤں کے جھونکے اس کے پاس سے گزرتے ہیں مگر پودا کیا کرتا ہے۔ پودا یہ کرتا ہے کہ پچھم کی طرف سے ہوا آئی تو وہ پورب کی طرف جھک گیا اور جب ہوا گزر گئی تو وہ دوبارہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader