کمزور تعمیر
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
کمزور تعمیر بچوں کا گھروند اجتنی دیر میں بنتا ہے، اس سے بھی کم مدت میں وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضبوط اور مستحکم زندگی کیا ہے۔ اور وہ زندگی کیا ہے جو کمزور بنیادوں پر کھڑی کی گئی ہو۔ بارش اور طوفان میں جب کوئی مکان گر پڑتا ہے تو باہر کا طوفان اس کو نہیں گراتا، مکان کی اپنی کمزوری اس کو گرا دیتی ہے۔ آندھیاں اٹھتی ہیں تو چھپر اڑ جاتے ہیں مگر پتھر سے بنے ہوئے قلع آندھیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے عمل سے اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہے۔ مگر تعمیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تعمیر وہ ہے جس کے پیچھے گہری بنیاد نہ ہو، جس کا ڈھانچہ بس اوپر اوپر کھڑا کر دیا گیا ہو۔ ایسی زندگی ہمیشہ حادثات کی زد میں رہتی ہے۔ مخالفت کا معمولی جھونکا بھی اس کو ہلانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے زمین پر قرار اور استحکام نہیں۔ دوسری زندگی وہ ہے جو گہری بنیادوں پر تعمیر کی جائے۔ جس کے تمام اجزاء پختہ مادہ سے تیار کیے گئے ہوں۔ ایسی زندگی کو کوئی ہلا نہیں سکتا۔ مخالفین کی مخالفتیں اور دشمنوں کی سازشیں صرف اس کی مضبوطی کی تصدیق کرتی ہیں۔ کمزور تعمیر میں وقت بہت کم لگتا ہے، اس لیے اکثر لوگ کمزور تعمیر کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ مگر کمزور تعمیر روزانہ گرتی ہے اور روزانہ بنائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس مستحکم تعمیر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بار بنا دی جائے تو صدیوں تک اپنی جگہ اٹل ہو کر کھڑی رہتی ہے۔ مستقبل کے لحاظ سے دیکھیے تو سب سے کم وقت مستحکم تعمیر میں لگتا ہے، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ اگر آپ کو بنانا ہے تو قلعہ بنائیے، بچوں کا گھروندانہ بنائیے۔ اس کے بعد آپ کو کسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader