Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ظلم کی شکایت نہ ہوگی۔ کیوں کہ اس کے بعد کوئی ظالم آپ کے قلعہ کو توڑنے کی ہمت ہی نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی نے توڑنا چاہا تو اس کا اپنا سر تو ضرور ٹوٹ جائے گا، مگر آپ کا قلعہ توڑنے میں وہ کامیاب نہ ہوگا۔ ہار کے بعد جیت شکست خواہ کتنی ہی بڑی ہو، وہ ہمیشہ وقتی ہوتی ہے۔ اور دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ اس کو فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے— اس دنیا میں ہر چیز عارضی ہے، اسی طرح ہار بھی عارضی ہے، اس دنیا میں کوئی ہار مستقل ہار نہیں۔ ہارنے کے بعد آدمی کے لیے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جنگ ہارنے کے بعد ہمت بھی ہار جائے۔ وہ پست ہمت ہو کر بیٹھارہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ یہ سوچنے میں لگ جائے کہ میں ہارا تو کیوں ہارا۔ وہ فریق ثانی کے جیتنے کا سبب اور اپنے ہارنے کا سبب معلوم کرے ۔ یہ دوسری سوچ آدمی کے ذہن کو کھولتی ہے۔ اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ زیادہ اعلیٰ تیاری کے ساتھ دوبارہ اقدام کر سکے۔ اور جو شخص ایسا کرے وہ پہلی بار نہیں تو دوسری بار ضرور کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ اس دنیا میں ناکامی کے ساتھ کامیابی لگی ہوئی ہے اور کامیابی کے ساتھ ناکامی وابستہ ہے۔ جو شخص ناکام ہو جائے ، اس کے اندر دوبارہ اٹھنے کے لیے نیا عزم جاگتا ہے۔ اس کے دماغ کے نئے نئے گوشے بیدار ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف جو آدمی کامیاب ہوا ہو، اس کی زندگی میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔ وہ اطمینان کی نفسیات میں مبتلا ہو کر سو جاتا ہے۔ اس طرح ہارنے والے کے لیے ہار نئی زندگی کا سبب بنتی ہے، اور جو آدمی جیتیتا ہے اس کی جیت اس کو سلا کر زندگی سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ کبھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page