Urdu book · تعمیر حیات

صبح کا انتظار

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

صبح کا انتظار ہر شام کے بعد دوبارہ نئی صبح آتی ہے، مگر صبح کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو صبح کے آنے تک اس کا انتظار کرے۔ اس دنیا میں روشن صبح اپنے آپ آتی ہے۔ مگر انتظار کرنے والے اس کا انتظار نہیں کرتے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت پسندی ہے۔ وہ تاریک حالات کو دیکھ کر گھبرا اٹھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں رات اور دن کا نظام ہر روز اس کو سبق دے رہا ہے کہ روشنی بہر حال آئے گی، کوئی تاریکی اتنی لمبی نہیں ہوسکتی جو آنے والی روشن صبح کو آنے سے روک دے۔ دنیا میں تلخیاں بھی ہیں۔ لیکن تلخیوں کو اگر سہہ لیا جائے تو اس کے بعد مٹھاس بھی ضرور آکر رہتی ہے۔ یہاں آدمی ناکامیوں سے بھی دوچار ہوتا ہے، لیکن ہر ناکامی وقتی ناکامی ہے۔ اگر وقتی ناکامی کی چوٹ برداشت کر لی جائے تو اس کے بعد لازماً وہ مرحلہ آتا ہے جو آدمی کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ موجودہ دنیا میں کسی چیز کو ٹھہراؤ نہیں۔ اسی طرح یہاں کامیابی اور ناکامی کو بھی ٹھہراؤ نہیں۔ یہاں ہر ناکامی کے بعد کامیابی ہے، اور ہر کامیابی کے بعد ناکامی۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ کامیابی پیش آئے تب بھی وہ اعتدال پر قائم رہے، اور ناکامی کا تجربہ ہوتب بھی وہ اعتدال اور توازن کو نہ کھوئے۔ جس طرح صبح اپنے آپ آتی ہے، اسی طرح اس دنیا میں ناکامی کے بعد کامیابی بھی اپنے آپ آتی ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ انتظار کی ہمت کر سکے۔ اس دنیا میں ہر ناکامی ایک وقتی وقفہ ہے اور ہر کامیابی آئندہ ظاہر ہونے والا لازمی واقعہ۔ جس طرح شام کا آنا یقینی ہے اسی طرح شام کے بعد صبح کا ظاہر ہونا بھی یقینی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں مایوسی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کائنات کا پورا نظام جس کے ساتھ ہو اس کو کسی اور سے اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page