Urdu book · تعمیر حیات

صبر ۔ بہادری ہے

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

گلاس سے ایک قطرہ کا باہر آنا۔ گلاس کے قطرہ کو دیکھ کر سمجھا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر کیا چیز بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک روش کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بقیہ اعتبار سے وہ انسان کیسا انسان ہے۔ تاہم گلاس میں اور انسان میں ایک فرق ہے۔ گلاس جامد چیز ہے، اور انسان ایک متحرک مخلوق ہے۔ انسان اس پر قادر ہے کہ غلطی کرنے کے بعد وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ اس کا نام تو بہ ہے تو بہ کی صلاحیت نے انسان کو ایک خود اصلاحی مشین بنا دیا ہے۔ انسان سے جب ایک غلطی ہو، اس وقت اگر اس کا شعور جاگ اٹھے۔ وہ کسی تحفظ کے بغیر کھلے طور پر اعتراف کرلے کہ میں نے غلطی کی تو مشینبی اصطلاح میں، گویا اس نے اپنے نقص کو درست کر لیا۔ وہ دوبارہ ایک نیا انسان بن گیا۔ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں، یہ بے حد اہم بات ہے۔ جب آدمی اپنی غلطی کو نہیں مانتا تو اس کے پیچھے کوئی خاص سبب ہوتا ہے۔ مثلاً بڑائی کا احساس۔ ذاتی مفاد کا خطرہ۔ وغیرہ۔ اسی قسم کی ایک یا دوسری کمزوری ہوتی ہے جس کی بنا پر آدمی کھلی ہوئی غلطی کا ارتکاب کرنے کے باجود اس کا اقرار نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں غلطی کے اقرار کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ جب آدمی اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر چھپی ہوئی بہت سی کمزوریوں کو مٹاتا ہے۔ وہ گویا نفسیاتی معنوں میں ایک غسل صحت کرتا ہے۔ گندا انسان از سر نو ایک پاک صاف انسان بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں اس شخص کا ہے جو غلطی کا اعتراف نہ کرے ۔ اس کی روح بدستور گندگی میں پڑے رہے گی، وہ ہمیشہ پیچھے پیچھے جاتا رہے گا، روحانی میدان میں وہ آگے کی طرف سفر نہیں کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page