Urdu book · تعمیر حیات

محفوظ دوری

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

اب سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے کیا جائے۔ کیونکہ لڑائی اور ٹکراؤ کے درمیان صحت مند زندگی کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ صحت مند زندگی بنانے کے لیے معتدل حالات کی موجودگی لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس کا جواب خود خالق حقیقی نے پیشگی طور پر دے دیا ہے ۔ اور وہ صبر و اعراض ہے۔ عداوت کی اس دنیا میں کامیاب زندگی بنانے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ ٹکراؤ کے مواقع سے اعراض کیا جائے۔ اشتعال انگیزی اور ناخوش گواری اور ضرر رسانی کے تجربات پیش آئیں مگر ان کو نظر انداز کیا جائے۔ زیادہ فائدہ کی خاطر کم نقصان کو برداشت کر لیا جائے۔ جنگل کے جانوروں میں بھی عداوت کا یہی اصول کار فرما ہے۔ پھر جنگل کے جانور کیا کرتے ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک یہ کرتا ہے کہ فطرت کی رہ نمائی کے تحت وہ اپنے آپ کو اپنے دشمن یا حریف کے مقابلے میں محفوظ فاصلہ (safe distance) پر رکھتا ہے۔ یہی واحد فطری اصول ہے جس پر جنگل کی زندگی کروڑوں سال سے قائم ہے۔ محفوظ دوری پر رہنے کا یہ اصول فطرت کا اصول ہے۔ اس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے۔ سڑک پر آپ اپنے کو دوسری گاڑیوں سے محفوظ دوری پر رکھتے ہیں، اس لیے آپ کامیابی کے ساتھ اپنا سفر طے کر کے منزل پر پہنچتے ہیں۔ یہی اصول گھر کے لیے، بازار کے لیے، اجتماعی زندگی کے تمام مواقع کے لیے ضروری ہے۔ ہر جگہ ہمیں اپنے آپ کو دوسروں سے محفوظ دوری پر رکھنا ہے۔ اس دنیا میں یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے، اس کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا حصول ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page