تعمیر حیات
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی حالت میں کامیاب زندگی کی تعمیر کا راز کیا ہے۔ اگر کامیاب زندگی اس کا نام ہو کہ آدمی جو کچھ پانا چاہتا ہے اس کو وہ بھر پور طور پر پالے تو تجربات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں اس قسم کی یافت ممکن ہی نہیں۔ اس حالت میں اگر کامیابی اس کو سمجھا جائے کہ آدمی جو کچھ چاہتا تھا اس کو اس نے پالیا تو آخر کار مایوسی کے سوا اس کے حصہ میں کچھ اور نہیں آئے گا۔ ایسی سوچ رکھنے والے انسان کے لیے اس دنیا میں دو ہی انجام ہے ـــ مایوسی یا خود کشی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا راز صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ منزل کے بجائے خود طلب کو اپنا مقصود بنایا جائے ۔ انسان اپنے اندر جس طلب کو محسوس کرتا ہے وہ حقیقتاً حق کی طلب ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص کامیاب ہے جو معرفتِ حق کو اپنا نشانہ بنا سکے جو حقیقت اعلیٰ میں جینے کا راز پالے۔ اس کے برعکس ، جو لوگ مادی رونقوں کو اپنا مطلوب بنائیں وہ کبھی مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے ـــ جتنا بڑا انشانہ اتنی بڑی ترقی۔ محفوظ دوری قرآن (2:36) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد سے فرمایا کہ تم لوگ زمین پر آباد ہو اور تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن بنو گے (بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ امتحانی دنیا میں انسان کو جن حالات کے درمیان رہنا ہے ان میں ایسا بھی ضرور ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلاف اور مقابلے جاری ہوں جو بڑھ کر عداوت تک پہنچ جائیں۔ حتیٰ کہ قتل وخون کی نوبت آجائے ۔ ایسا ہونا خود تخلیقی منصوبہ کے مطابق ہے ۔ اس لیے اس کو ختم کرنا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا کہ درخت سے کانٹے کو ختم کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader