تعمیر حیات
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی گزارے۔ وہ ہر آن محتاط رہے۔ وہ ہر لمحہ اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ وہ اپنے تعصّبات کے خول سے باہر آ کر جینا سیکھے۔ وہ اپنی ذات کا لحاظ کرنے کے ساتھ دوسروں کا لحاظ کرنے والا بھی بنے۔ جو لوگ اس طرح دو طرفہ رعایت کی زندگی گزاریں وہی اس دنیا میں کامیابی کا درجہ حاصل کریں گے۔ حق کے مطابق اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے۔ جب آدمی صرف اپنے حق کا طالب ہو تو پورا نظام عالم اس کا ساتھ دے رہا ہوتا ہے، اور جب وہ اپنے حق سے زیادہ کا طالب بن جائے تو نظام عالم اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا آدمی کامیاب ہوتا ہے، اور دوسرا آدمی نا کام۔ جب آپ اپنے حق کے بقدر چاہتے ہیں تو آپ وہ چیز چاہ رہے ہوتے ہیں جو واقعتاً آپ کی ہے، جو از روئے انصاف آپ ہی کو ملنا چاہیے۔ مگر جب آپ اپنے واقعی حق سے زیادہ چاہیں تو گویا آپ ایسی چیز چاہ رہے ہیں جو از روئے انصاف آپ کی چیز نہیں ہے، بلکہ دوسرے کی چیز ہے۔ پھر دوسرا شخص کیوں آپ کو اپنی چیز دینے پر راضی ہو جائے گا۔ جب بھی آدمی اپنے حق سے زیادہ چاہے تو فوراً اس کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہو جاتا ہے۔ دوسرے لوگ اس کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اب کش مکش اور ضد اور مزاحمت وجود میں آتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اصل سے زیادہ کی طلب میں اصل کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اپنے حق سے زیادہ کی طلب کرتے ہی یہ ہوتا ہے کہ آدمی تضاد میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے حصہ کی چیز لینے کے لیے ایک دلیل دیتا ہے، اور دوسرے کے حصہ کی چیز پر قبضہ کرنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader