Urdu book · تعمیر حیات

اخلاقی پستی

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

تنقید ہر آدمی کا فطری حق ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ دوسرے آدمی میں کوئی غلط بات دیکھے تو بر ملا اس کا اظہار کرے مگر یہ حق مدلل اختلاف رائے کے لیے ہے، نہ کہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے لیے۔ جو لوگ اختلاف کے وقت کمینگی کی سطح پر اتر آئیں وہ خود اپنے بارے میں زیادہ شدت کے ساتھ وہی الزام ثابت کر رہے ہیں جس کو وہ دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا چاہتے تھے۔ کردار کی یہ قسم ہر دور میں پائی گئی ہے۔ رسولِ ﷺ اور اصحابِ رسول ﷺ کے زمانے میں بھی ایسے پست افراد موجود تھے، آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، اور وہ بدستور اسی طرح باقی رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے جب کہ لوگوں سے یہ موقع ہی چھن جائے گا کہ وہ کسی کے اوپر جھوٹا الزام لگائیں یا کسی کی کردار کشی کریں۔ صحت مند اختلاف سراپا خیر ہے مگر الزام تراشی سراپا شر ہے۔ جس سماج میں الزام تراشی کا رواج ہو، لوگ ایک دوسرے کو برا القاب دینے لگیں، وہ سماج کمینہ اخلاقیات کی تربیت گاہ بن جاتا ہے۔ اور کسی سماج کے لیے اس سے زیادہ بری حالت اور کوئی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page