Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ آپ کے خیال کے مطابق، خواہ کتنا ہی گمبھیر ہو، آپ کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ آپ کے لیے انتخاب صرف دو چیزوں میں ہے۔ یا تو صورت موجودہ کو گوارا کرتے ہوئے پر امن دائرے میں اپنی کوشش جاری کیجیے، یا لڑ بھڑ کر اپنے کو ہلاک کر لیجیے۔ اس کے سوا دوسری کوئی ممکن صورت سرے سے آپ کے لیے موجود ہی نہیں۔ قدیم زمانے میں جنگ کسی مسئلہ کو حل کرنے کا وسیلہ ہو سکتی تھی، مگر موجودہ زمانے میں جنگ خود سب سے بڑا مسئلہ پیدا کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے کی جنگ جو عمومی تباہی لاتی ہے وہ تمام تباہیوں سے زیادہ بڑی تباہی ہے۔ اس لیے اب آدمی کو صرف دو میں سے ایک کام کرنا ہے۔ یا تو وہ پرامن دائرے میں رہتے ہوئے اپنی کوشش انجام دے، یا پھر خاموشی کا طریقہ اختیار کرے۔ اخلاقی پستی سر سید احمد خاں کو ان کے مخالفین نے انگریز کا پٹھو کہا۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو ان کے مخالفین نے ہندوؤں کا ایجنٹ بتایا۔ اس کی کیا وجہ تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان مخالفین نے دیکھا کہ انگریز سرسید احمد خاں کا احترام کرتے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے دیکھا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ہندوؤں کے درمیان ایک قابل احترام حیثیت حاصل ہے۔ یہ مخالفین اپنے عناد کی وجہ سے یہ اعتراف کرنا نہیں چاہتے تھے کہ غیر مسلموں کے درمیان انھیں جو احترام ملا ہے، وہ ان کی کسی ذاتی خوبی کا نتیجہ ہے۔ اس لیے انھوں نے ان شخصیتوں کو مذکورہ قسم کے القاب دے دیے تاکہ یہ ظاہر کر سکیں کہ انھوں نے یہ درجہ محض اپنی ابن الوقتی کے ذریعہ حاصل کیا ہے، نہ کہ اپنی کسی واقعی لیاقت کے ذریعہ۔ اس قسم کا قول بظاہر ایک تنقید ہے، مگر حقیقتاً وہ کمینگی ہے، اور کمینگی بلا شبہ تمام غیر اخلاقی حرکتوں میں سب سے زیادہ بری اور ذلیل حرکت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page