تعمیر حیات
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح طرز فکر انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ فکری صلاحیت رکھتا ہے۔ حیوان اپنی جبّت کے تابع ہے۔ انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ سوچتا ہے اور سوچ کے تحت اپنے عمل کا منصوبہ بناتا ہے۔ حیوان کے لیے غلطی کرنے کا کوئی امکان نہیں کیوں کہ حیوان خدائی جبّت کے تحت عمل کرتا ہے۔ لیکن انسان صحیح بھی کرتا ہے اور غلط بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو آخری حد تک بیدار کرے، تاکہ اس کی سوچ درست سوچ ہو۔ اور اس کے نتیجہ میں اس کا عمل بھی درست عمل۔ پہلا نکتہ زندگی ایک آرٹ ہے۔ جو لوگ اس آرٹ کو جانیں وہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ جو لوگ اس آرٹ سے بے خبر ہوں، ان کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ اس آرٹ کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کو مثبت طرز فکر (positive thinking) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ردّ عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر کھلے انداز میں سوچنا، اور پھر غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر کے اپنا منصوبہ بنانا۔ مثبت طرز فکر کے برعکس وہ طرز فکر ہے جس کو منفی طرز فکر (negative thinking) کہا جا سکتا ہے۔ مثبت طرز فکرا گر اپنی فکری صلاحیتوں کو عمل میں لانے کا نام ہے تو منفی طرز فکر یہ ہے کہ آدمی کی اپنی فکری صلاحیت ارتقا نہ کر سکے، وہ صرف خارجی احوال کے زیر اثر سوچے اور اسی کے مطابق اپنی رائے بنائے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی کا سارا معاملہ صحیح سوچ یا غلط سوچ کا معاملہ ہے۔ صحیح سوچ کامیابی کا ذریعہ ہے، اور غلط سوچ ناکامی کا ذریعہ۔ یہی اصول افراد کے لیے ہے اور یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader