Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اصولِ قوموں کے لیے بھی۔ آدمی نے اگر اپنے ذہن کو بند نہ رکھا ہو تو صحیح فکر کو پانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ آدمی کی خود اپنی فطرت اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیاں اسی کا سبق دیتی ہیں۔ تاریخ کے تجربات ہی پیغام دے رہے ہیں۔ تمام علوم اس کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں صحیح طرزِ فکر سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھے، کان رکھتے ہوئے نہ سنے، جو عقل رکھتے ہوئے سمجھنے سے انکار کر دے۔ دوسرا نکتہ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی تمام کارروائیاں اس کی سوچ کے تابع ہوتی ہیں۔ آدمی پہلے سوچتا ہے، اس کے بعد وہ عمل کرتا ہے۔ سوچ اگر درست ہو تو عمل بھی درست ہوگا۔ اور اگر سوچ درست نہ ہو تو عمل بھی شروع سے آخر تک غلط ہو کر رہ جائے گا۔ صحیح سوچ سے صحیح آغاز ملتا ہے اور صحیح آغاز صحیح نتیجہ تک پہنچاتا ہے۔ سیب یا کوئی پھل جب اپنی شاخ سے ٹوٹتا ہے تو وہ ہمیشہ زمین پر گرتا ہے۔ یہ واقعہ ہزاروں سال سے ہو رہا تھا۔ مگر وہ لوگوں کو بس ایک عادی واقعہ نظر آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس میں سوچنے کی کوئی بات نہیں، کیوں کہ جو ہو رہا ہے وہی ہونا چاہیے۔ نیوٹن (وفات 1727-1643) غالباً پہلا شخص تھا جس نے سیب کے پھل کو شاخ سے ٹوٹ کر نیچے گرتے ہوئے دیکھا تو وہ سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس کے ذہن میں بظاہر ایک انوکھی بات آئی سیب شاخ سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آیا۔ یہ سوچ بظاہر انوکھی تھی مگر اس کے ذریعہ نیوٹن اس حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا کہ زمین میں قوتِ کشش (gravitational pull) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر کی چیز ہمیشہ نیچے آتی ہے۔ نیچے کی چیز کبھی اوپر نہیں جاتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page