Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ آپ اس کے مطابق اپنی تصویر بنائیں ۔ اپنے ماحول کے اندر آپ اپنے کو جس طرح متعارف کریں گے اسی کے مطابق ماحول بھی آپ کے ساتھ معاملہ کرے گا ، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ ۔ ترقی کا راز مسٹر محمد حنیف (پیدائش 1951) دہلی میں رہتے ہیں۔ (4690593 .Tel) وہ کسٹم اینڈ سنٹرل ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں سپرنٹنڈنٹ ہیں ۔ وہ اپنے آفس میں اپنی اسلامی پہچان کو چھپاتے نہیں ہیں بلکہ ہر موقع پر قرآن اور اسلام کا تعارف بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کو 1999 کا صدارتی ایوارڈ (Presidential Award) دیا گیا جو ایک اعلیٰ سرکاری اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ 15 سالہ ریکارڈ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ امتیازی ایوارڈ کس کو دیا جائے۔ ہر سال محکمہ کے تین سینئر افسر متعلق شخص کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اس کی رپورٹ لکھتے ہیں۔ اس طرح 15 سال کے اندر 45 افسران رپورٹنگ کے اس کام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک افسر کی رپورٹ بھی اگر غیر موافق ہو تو وہ شخص اس قومی ایوارڈ کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا۔ کمیٹی کی طرف سے نامزدگی کے بعد یہ فائل مزید تقریبا نصف درجن سرکاری دفاتر میں کلیبرنس کے لیے بھیجی جاتی ہے اور آخر کار وہ صدر جمہور یہ ہند کے پاس پہنچتی ہے۔ ہندوستان کے ایک مسلمان کو اس غیر معمولی ایوارڈ کا استحقاق کیسے ملا۔ اس کا جواب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے امتیازی کارکردگی اور خوش اخلاقی ۔ اس معاملے میں محمد حنیف صاحب کا ریکارڈ غیر معمولی طور پر ممتاز ہے ۔ جہاں تک ان کے حسن اخلاق کا تعلق ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page