ترقی کا راز
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
1996 میں سوپیرس کی بھرتی کے دوران ان کے آفس میں ایک اونچی ذات کا ہندو لڑکا انٹرویو کے لیے آیا۔ حنیف صاحب نے اس سے کہا کہ سوپیرس کو نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے جیسا کام کرنا پڑتا ہے اور آپ کا تعلق ایک اونچی ذات سے ہے تو آپ یہ سارے کام کیسے کریں گے۔ اس نے جواب دیا کہ پیٹ کی خاطر میں سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ محمد حنیف صاحب نے اس لڑکے کو وہ سروس دلادی۔ لیکن محمد حنیف صاحب کو اس بات کا کافی احساس تھا لہٰذا انھوں نے اس کو نالی صاف کرنے اور جھاڑو لگانے کے بجائے دفتر میں ڈسٹنگ کے کام پر لگا دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد محمد حنیف صاحب کا اس دفتر سے تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ ایک ہندو افسر آ گیا۔ اس کے بعد ایک دن اچانک وہ لڑکا محمد حنیف صاحب کے گھر آیا، اس نے بتایا کہ ہم کو دوبارہ نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے کا کام آپ کے جانے کے بعد دے دیا گیا ہے، جس سے آپ نے مجھے مستثنیٰ کر دیا تھا۔ محمد حنیف صاحب کو اس کا ملال ہوا اور انھوں نے مذکورہ ہند و افسر سے ٹیلیفون پر اس لڑکے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ اس لڑکے کو نالی کی صفائی اور جھاڑو کے بجائے ڈسٹنگ کے کام پر ہی لگارہنے دیں۔ محمد حنیف صاحب کے کہنے پر نئے افسر نے اس کو ڈسٹنگ کے کام پر بحال کر دیا۔ محمد حنیف صاحب اپنے دفتر میں ہر ایک کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹے ملازمین سے لے کر بڑے افسروں تک ہر آدمی ان کی عزت کرتا ہے۔ اسی طرح محمد حنیف صاحب اپنی سرکاری خدمات کو پوری دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ سروس کے تحت ان کو بار بار مزید مالی فائدے حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مگر محمد حنیف صاحب اس قسم کی آمدنی سے مکمل طور پر دور رہتے ہیں۔ وہ اپنی جائز تنخواہ کے دائرے میں زندگی گزارتے ہیں اور ناجائز آمدنی کو کبھی ہاتھ نہیں لگاتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader