Urdu book · تعمیر انسانیت

یکساں سول کوڈ

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی دلیل سے نکاح کے معاملہ کو مذہب سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب نکاح و طلاق کا معاملہ مذہب کا معاملہ ہے تو دستور کی دفعہ ۲۵ کے مطابق، کسی بھی پارلیمنٹ یا کسی بھی ادارہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی مگر وہ کے اس مسلمہ حق کو اس سے چھین لے اور اس کی مرضی کے بغیر اس کے اوپر ایسا قانون نافذ کرے جو مذکورہ دفعہ کے مطابق، اس کے مذہبی معاملہ میں مداخلت کے ہم معنی ہو۔ کامن کوڈ اور قومی یکتا کامن سول کوڈ کا مقصد کیا ہے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہے گا کہ کامن کوڈ برائے کامن کوڈ (common code for the sake of common code) ہمارا مقصد ہے۔ پھر اس کا اصل مقصد کیا ہے، اس کے تمام وکیل متفقہ طور پر اس کا ایک ہی فائدہ بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں باہمی قربت پیدا ہوگی۔ اور مشترک قومیت کو وجود میں لانے میں مدد ملے گی۔ کامن کوڈ لوگوں کے اندر کامن فیلنگ پیدا کرے گا۔ اس طرح وہ مضبوط انڈین نیشن وجود میں آجائے گی جس کا پچاس سال سے ہم کو انتظار ہے۔ مگر یہ محض قافیہ بندی کی بات ہے۔ صرف لفظی اشتراک کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کامن کوڈ سے کامن فیلنگ کا ظہور ہوگا۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی لازمی رشتہ نہیں۔ تمام متعلق حقائق اس نظریہ کی تردید کرتے ہیں۔ جسٹس کلدیپ سنگھ اپنے فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ حکومت نے ہندوؤں کے روایتی قانون کو کوڈ کی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔ ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵، ہندو سکشن ایکٹ ۱۹۵۶، ہندو مائنارٹی اینڈ گارجین شپ ایکٹ ۱۹۵۶، ہندو ایڈاپشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ ۱۹۵۶ بنایا جا چکا ہے۔ ان قوانین نے روایتی ہندو قانون کی جگہ لے لی ہے جو کہ مختلف مکاتب فکر اور مذہبی کتابوں پر مبنی تھا۔ ان جدید قوانین نے ان سب کو ایک یونیفارم کوڈ کی حیثیت دے دی ہے۔ جب ۸۰ فی صد سے زیادہ شہری پہلے ہی سے مشترک پرسنل قانون کے تحت لائے جا چکے ہیں تو اب اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو مزید التوا میں ڈالا جائے (صفحہ ۲) جسٹس کلدیپ سنگھ مزید لکھتے ہیں کہ آخر حکومت کو کتنا زیادہ وقت چاہیے کہ وہ دستور ہند کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page