یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
دفعہ ۴۴ کے تحت دی ہوئی ہدایت کی تعمیل کرے ۔ ہندوؤں کا روایتی قانون، ہندوؤں کا پرسنل لا جس کا تعلق وراثت ، جانشینی اور شادی بیاہ سے ہے، بہت پہلے ۵۶-۱۹۵۵ میں قانونی کوڈ کی صورت اختیار کرچکا۔ اب کسی بھی قسم کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے کہ ملک میں یونیفارم پرسنل لا کے نفاذ میں غیر متعین تاخیر کی جائے ۔ ہندوؤں کا پرسنل لا، جس کا تعلق شادی، جانشینی وغیرہ سے ہے، وہ سب اسی طرح مقدس سمجھے جاتے ہیں جیسا کہ مسلمانوں یا عیسائیوں کے قانون۔ مگر ہندو اور ان کے ساتھ سکھ، بدھسٹ اور جینی فرقہ نے قومی اتحاد اور استحکام کی خاطر اپنے جذبات کو بھلا دیا۔ تا ہم کچھ اور فرقوں نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے، اگر چہ دستور پورے ہندوستان میں ایک ہی کامن سول کوڈ نافذ کرنے کی تاکید کرتا ہے (صفحہ ۲۱-۲۲) جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلہ کا جو اقتباس ہم نے اوپر نقل کیا ہے، اس موضوع کے نزدیک ملک کی بہت بڑی اکثریت (۸۰ فی صد سے زیادہ)، اس مشترک عائلی قانون کے تحت بالفعل لائی جا چکی ہے جس کے لیے وہ مکمل قسم کا یکساں پرسنل لا قانون بنانے کی پر زور وکالت کر رہے ہیں۔ پھر جب آبادی کی اتنی بڑی اکثریت میں مطلوب قانون عملاً آچکا ہے تو اس کے وہ مثبت نتائج کہاں ہیں جو اس کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی ہر سطح پر قومی یک جہتی کا فقدان ہے ۔ لوگوں میں کوئی نیشنل کیریکٹر نہیں ۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران ایسے ہنگامے ہوتے ہیں کہ کار روائی کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گاؤں پنچایتوں میں پہلے سے بھی زیادہ جھگڑے ہو رہے ہیں ۔ عدالتوں میں نزاعی مقدمات کی بھر مار ہے۔ دو مختلف فرقوں سے بھی زیادہ ایک ہی فرقہ کے مختلف طبقات میں ٹکراؤ ہورہا ہے۔ اکثر ریاستوں میں علاقائی ہنگامے جاری ہیں۔ حتیٰ کہ کئی ریاستوں میں علاحدگی کی تشددانہ تحریکیں چلائی جارہی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا سول قانون ایک ہی ہے۔ مگر ان جماعتوں نے اتنے بڑے پیمانہ پر باہمی لڑائی جاری کر رکھی ہے کہ ملک کا استحکام شدید طور پر خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ خود سپریم کورٹ کے مذکورہ جج صاحبان کے فیصلہ کے مطابق، اصل مسئلہ کامن کوڈ کے نفاذ کا نہیں ہے، بلکہ کامن کوڈ کے نفاذ کے باوجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں چاہیے کہ ہم دوسری تدبیر تلاش کریں نہ کہ ناکام ہو جانے والی تدبیر کے مزید بے سود اعادہ پر اپنا وقت ضائع کریں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader