Urdu book · تعمیر انسانیت

یکساں سول کوڈ

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

یکسانیت اور اصلاح کے درمیان قطعی طور پر کوئی بھی منطقی ربط نہیں۔ اول الذکر کے خلاف کیس اتنا ہی ناقابل تردید ہے جتنا کہ وہ مؤخر الذکر کے معاملہ میں ہے۔ یکساں سول کوڈ، قومی اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لیے کوئی قطعی چیز نہیں، جیسا کہ بج صاحبان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دستور ہند کی اسٹیٹ لسٹ میں ۶۶ اندراجات ہیں اور کانکرنٹ لسٹ میں ۴۷ اندراجات ہیں، جن کے معاملہ میں ریاستوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الگ الگ قوانین بنا سکتی ہیں، اور ان میں یکسانیت ضروری نہیں ہے۔ اگر ریاستوں کی جغرافیائی اور ثقافتی عدم یکسانیت کی بنیاد پر بنائے جانے والے فیریکساں قوانین ملک کے اتحاد کے لیے خطرہ نہیں ہیں تو غیر جغرافیائی نوعیت کے مذہبی گروہوں میں عدم یکسانیت سے وہ کیوں خطرہ بن جائیں گے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئی فرقہ مذہب کی بنیاد پر اپنے لیے علیحدہ وجود کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ مگر کیا ہم نے زبان کی بنیاد پر علیحدہ وجود کا اقرار نہیں کیا ہے اور زبان کی بنیاد پر از سر نو ملک کی تنظیم نہیں کی ہے۔ کیا منڈل اصول کے تحت ذات کی بنیاد پر تشخص کو سیاسی جواز نہیں دیا گیا ہے۔ پھر معزز جج کیوں استثنائی طور پر صرف مذہبی گروہ کو علیحدہ تشخص کا حق دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر منطقی روش ہے، اور سماجی اور سیاسی اعتبار سے مسلمہ حقائق کے خلاف ہے۔ کیا یہ تشخص محض ایک جج کے اعلان سے ختم ہو جائے گا۔ (انڈین ایکسپریس ۶ جولائی ۱۹۹۵)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page