یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
گرڈگولو الکر کے خیالات آر ایس ایس کے سابق سرسنگھ چالک گرڈگولو الکر نے ۲۰ اگست ۱۹۷۲ء کو دہلی میں دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قومی اتحاد کے لیے یکساں سول کوڈ کوئی ضروری چیز نہیں۔ ان کی یہ تقریر مدر لینڈ (۲۱ اگست ۱۹۷۲ء) میں چھپی تھی۔ اس کے بعد ہفت روزہ آرگنائزر (۲۶ اگست ۱۹۷۲ء) میں اس موضوع پر ان کا ایک انٹرویو شائع ہوا۔ یہ رپورٹ انگریزی میں اگلے صفحات میں درج کی جارہی ہے۔ انھوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا : میں نہیں سمجھتا کہ نیشنلزم کا احساس پیدا کرنے کے لیے ہمیں یکساں سول کوڈ کی ضرورت ہے۔ اس قسم کی قانونی یکسانیت کا قومی اتحاد سے کوئی تعلق نہیں۔ انڈیا ہمیشہ تنوع کا ملک رہا ہے۔ اس کے باوجود لمبی مدت سے ہم ایک طاقتور اور متحد قوم بنے رہے۔ اتحاد کے لیے ہمیں ہم آہنگی کی ضرورت ہے نہ کہ یکسانیت کی۔ میرا احساس یہ ہے کہ فطرت زیادہ یکسانیت کو پسند نہیں کرتی۔ ہمارے پاس زندگی کا بہت لمبا تجربہ ہے، اور ہمارا تجربہ یہ ہے کہ تنوع اور اتحاد دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دستور ہند میں ایک دفعہ یکساں سول کوڈ کے حق میں موجود ہے۔ مگر ایک چیز محض اس لیے پسندیدہ نہیں ہو جاتی کہ وہ کسی دستور میں لکھی ہوئی ہے۔ بہرحال ہمارا دستور کچھ بیرونی دستوروں کا طغوبہ ہے۔ اس کو ہندوستانی تجربات کی روشنی میں نہیں بنایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمان یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں، کیوں کہ وہ اپنا علیحدہ تشخص باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر کوئی بھی طبقہ یا فرقہ جو اپنا الگ تشخص چاہتا ہو اس سے میرا کوئی جھگڑا نہیں، جب تک یہ تشخص حب وطن کے جذبات کو گھٹانے والا نہ ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ احساسات ہوں۔ میرے نزدیک مسلمانوں کو اپنے طریقِ زندگی پر رہنے کا پورا حق ہے، البتہ انھیں ملک سے اور اس کے کچر سے محبت کرنا چاہیے۔ ہندوئوں کے لیے بھی یکساں سول قانون بنانا غیر ضروری ہے۔ آخر ہزاروں سال سے ہندو اس قسم کے فرق کے باوجود مل جل کر رہ رہے ہیں۔ کسی کو یہ بات فلسفیانہ معلوم ہو سکتی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یکسانیت قوموں کے لیے موت کی نشانی ہے۔ فطرت یکسانیت کو پسند نہیں کرتی۔ میرے نزدیک ہر طریقِ زندگی کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ البتہ ان تمام تنوعات کو قومی اتحاد میں مددگار ہونا چاہیے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader