یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل عمل نہیں حقیقت یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ ایک ناقابل عمل خواب ہے، اس کا داخلی ثبوت خود دستور ہند کے اندر موجود ہے۔ اس کی ایک مثال وہ ہے جو دستور کی دفعہ ۴۴ اور ۳۷۱-اے کے تقابل کے ذریعہ سامنے آتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، دستور کی دفعہ ۴۴ میں مقرر کیا گیا ہے کہ ملک کے تمام باشندوں کے لیے بلا استثناء ایک ہی یونیفارم سول کوڈ بنایا جائے ۔ مگر اسی دستور کی ترسیمی دفعہ ۳۷۱-اے کہتی ہے کہ ناگالینڈ میں ناگاؤں کے درمیان جو مذہبی اور سماجی قاعدے رائج ہیں اور ان کے یہاں جو مختلف روایتی قوانین ہیں، ان کے بارہ میں پارلیمنٹ کوئی قانون نہیں بنائے گی۔ ریاست ناگالینڈ میں وہ بدستور قابل نفاذ رہیں گے ۔الایہ کہ خود ناگالینڈ کی اسمبلی ان کے بارہ میں ایک تجویز کے ذریعہ ایسا طے کرے : No Act of Parliament in respect of (Naga customary laws) shall apply to State of Nagaland unless the Legislative Assembly of Nagaland by a resolution so decides (371-A). ظاہر ہے کہ ان دونوں دفعات میں تضاد ہے۔ یہ تضاد اسی لیے ہے کہ ہمارے دستور سازوں نے بزعم خود جامع دستور بنانے کے لیے محض تخیل کے زور پر اس میں مختلف چیزیں اکٹھا کر دیں جو حقیقت کی دنیا میں کبھی اکٹھا ہونے والی نہ تھیں۔ غالباً اسی لیے دستور ساز اسمبلی کے ایک سینیر ممبر سر الادی کرشنا سوامی آئّر نے دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل کا قانون ساز ادارہ ہو سکتا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ بنانے کی کوشش کرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سرے سے اس کی کوشش ہی نہ کرے : The future Legislatures may attempt a uniform civil code or they may not. (Sir Alladi Krishnaswami Aayyar) قانون کی محدودیت قانون کوئی بالا تر چیز نہیں ۔ دوسری تمام انسانی چیزوں کی طرح انسانی قانون بھی ایک محدود چیز ہے۔ ایک حد کے بعد انسانی سماج پر اس کی گرفت ختم ہو جاتی ہے۔ ۱۹۷۵ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ اس میں اندر اگاندھی کے انتخاب کو نہ صرف رد کیا گیا تھا بلکہ اندرا گاندھی کو چھ سال تک انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader