Urdu book · تعمیر انسانیت

یکساں سول کوڈ

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا تھا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ اندر اگاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کر کے مزید اضافے کے ساتھ دہلی کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔ 1986 میں یو پی کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے کے تحت بابری مسجد کا بند دروازہ کھلوا دیا تاکہ ہندو آسانی کے ساتھ اس کے اندر پوجا کی رسم ادا کر سکیں۔ بظاہر اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خوش گوار تعلق قائم کرنا تھا۔ مگر اس کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد ایسا طوفان برپا ہوا کہ ہند و مسلم تعلقات آخری حد تک بگڑ گئے اور ہندوستان سیاسی اور اقتصادی تباہی کے کنارے پہنچ گیا۔ شاہ بانو کیس میں 1985 میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ بظاہر اس کا مقصد عورتوں کے ساتھ انصاف کرنا تھا، مگر عملی نتیجہ یہ ہوا کہ راجیو گاندھی گورنمنٹ نے ایک قانون بنا کر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملے کو بھر پور طور پر اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ہندوستانی پارلی منٹ میں اس کے ممبروں کی تعداد دو سے بڑھ کر 119 تک پہنچ گئی اور کئی ریاستوں میں اس کی حکومت قائم ہو گئی۔ قانون کی محدودیت اس سے بھی ثابت ہے کہ ہندو کو ڈبل کو ڈبل 1955 میں اگر چہ کسی ہندو کے لیے صرف ایک ہی نکاح کی اجازت رکھی گئی ہے۔ مگر 1961 کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق، ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی شرح ہندوؤں کے اندر مسلمانوں سے زیادہ ہے : According to the Indian census report of 1961, the percentage of Hindus having more than one wife was more than that of the Muslims. انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے دو سو سال اقتدار کے زمانے میں صرف پانچ سو قانون بنائے ۔ ہمارے لیڈروں کو ملک میں 1949 میں اقتدار ملاتو انھوں نے 45 سال کی مدت میں پانچ ہزار سے زیادہ قانون بنا ڈالے۔ مگر اصلاحی قوانین کی کثرت صرف الٹا نتیجہ دینے والی (counter-productive) ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ملک میں جھگڑے بہت بڑھ گئے۔ کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ انصاف حاصل کرنا انتہائی دشوار کام بن گیا۔ عورتوں کی حالت ہمیشہ سے زیادہ خراب ہو گئی۔ یہ حالات سماج سدھار کے لیے نئی تدبیر تلاش کرنے کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ قوانین میں مزید اضافے کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page