یکساں سول کوڈ
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
The state shall endeavour to provide, within a period of ten years from the commencement of this Constitution, for free and compulsory education for all children untill they complete the age of fourteen years. غالباً بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ دفعہ دستور کے رہنما اصولوں کے تحت درج شدہ دفعات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی یہی دفعہ سب سے زیادہ فراہم ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ وہ حکومت سے باز پرس کرے کہ دس سال کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود اس دفعہ پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ دستور ہند کا نفاذ ۲۶ نومبر ۱۹۵۰ کو ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نومبر ۱۹۵۹ میں دس سال کی یہ مقررہ مدت پوری ہوگی۔ مگر ملک کے تمام نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا نشانہ کسی بھی درجہ میں حاصل نہ ہو سکا۔ تعلیم کی اہمیت قومی تعمیر کے لیے اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں امن سول کوڈ کا معاملہ صرف ایک نان اشو کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمارا واحد نکاتی نشانہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم ملک کی آبادی کو صد فی صد تعلیم یافتہ بنائیں۔ اس کے سوا جس چیز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا وہ اصل قابل لحاظ چیز سے توجہ کو ہٹانے (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا۔ اور اس طرح توجہ کو اہم سے ہٹا کر غیر اہم میں الجھا دینا ایک قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت ۔ تعلیم کا تعلق اصلأً سروس سے نہیں ہے۔ تعلیم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ شعور کی تربیت کرتی ہے۔ وہ آدمی کو صحیح طز پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ سماج یا قوم میں جتنے بھی مثبت اور مفید واقعات ہوتے ہیں وہ سب انھیں لوگوں کی دین ہوتے ہیں جو صحیح طرز فکر کے حامل ہوں۔ صحیح طرز فکر آدمی کے اندر دور اندیشی پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ اختلافات سے کس طرح نپٹے ۔ وہ آدمی کے اندر وہ بالغ نظری پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے مائنڈ کو پلس میں تبدیل کر سکے۔ اس سے آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جانتا ہے۔ وہ ظاہر سے گزر کر اندرونی حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے۔ صحیح طرز فکر سے صحیح عمل ظہور میں آتا ہے، اور صحیح عمل ہی کسی فرد یا گرہہ کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ سماج میں یک جہتی اور اتحاد کی فضا بنانے کے لیے اصل ضرورت یہ نہیں ہے کہ لوگوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader