Urdu book · تعمیر انسانیت

یکساں سول کوڈ

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

شادی بیاہ کا طریقہ ایک ہو۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگ صحیح طرز فکر کے حامل ہوں، صحیح طرز فکر کیا ہے ، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوگا۔ سوامی دیویکانند (۱۹۰۲-۱۸۶۳) کو ایک کر سچین بھائی نے اپنے مکان پر بلایا۔ کر سچین نے سوامی جی کو جانچنے کے لیے یہ کیا کہ اپنے ملاقات کے کمرہ میں ایک میز پر نیچے اور اوپر بہت سی مذہبی کتابیں رکھ دیں۔ سب سے نیچے ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن رکھی۔ اس کے اوپر مختلف مذہبوں کی کتابیں، اور سب سے اوپر اپنی مذہبی کتاب بائبل۔ سوامی دیویکانند جب کمرہ میں داخل ہوئے تو کر سچین میزبان نے کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے! اس کے بارہ میں آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ سوامی جی کتابوں کی مذکورہ ترتیب کو دیکھ کر مسکرائے، اور کہا : فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے۔ سوامی جی اگر اس معاملہ کو وقار (پرستیج) کا ایشو بناتے تو وہ بگڑ جاتے۔ وہ کہتے کہ کیا تم نے مجھے ذلیل کرنے کے لیے یہاں بلایا تھا۔ اب دونوں میں تکرار شروع ہو جاتی۔ عین ممکن ہے کہ یہ تکرار بڑھ کر اس نوبت تک پہنچتی کہ امن و قائم کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑتا۔ لیکن سوامی جی نے اس کو وقار کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کو اعراض کا مسئلہ بنا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو معاملہ دونوں کو لڑائی تک پہنچاتا، وہ دونوں کے درمیان مسکراہٹ کے تبادلہ پر ختم ہوگیا۔ یہ قابل قدر واقعہ کیوں کر پیش آیا۔ کیا اس لیے کہ سوامی دیویکانند اور مذکورہ کر سچین کا شادی بیاہ کا طریقہ ایک تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ کیوں کہ ان میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا عیسائی۔ اور ہندوؤں اور عیسائیوں میں شادی بیاہ کا طریقہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سوامی دیویکانند ایک ایسے آدمی تھے جن کی اعلیٰ تعلیم نے ان کو حد درجہ باشعور بنا دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح کسی واقعہ کو منفی رخ دینے کے بجاے اس کو مثبت رخ دیا جاسکتا ہے۔ وہ سوچنے کا آرٹ جانتے تھے۔ وہ زندگی کی سائنس سے واقفیت رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ رہا جاسکتا ہے۔ اس کا راز سوامی جی کی شعوری بیداری تھا نہ کہ کسی قسم کا مشترک سول کوڈ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page