Urdu book · تعمیر انسانیت

اصلاح کی طرف

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاح کی طرف پروفیسر ہیرن مکرجی ایک فریڈم فائٹر ہیں۔ وہ جواہر لعل نہرو (۱۹۶۴-۱۸۸۹) کے زمانہ میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ پروفیسر ہیرن مکرجی ایک بار پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی آئے۔ اجلاس سے فارغ ہو کر جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان پر ایک تجربہ گزرا۔ کلکتہ واپس پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم ہند، جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط لکھا جس میں اس تجربہ کا ذکر کرتا ۔ پروفیسر مکرجی نے لکھا کہ میری ٹرین جب نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے کنارے بہت دور تک جھگی جھونپڑی کی قطاریں چلی جا رہی ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ان جھونپڑیوں میں رہنے والے غریب ہندوستانی اگر مجھ سے پوچھیں کہ ملک کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میں ان کو کیا جواب دوں گا۔ جواہر لعل نہرو نے اس کے جواب میں پروفیسر مکرجی کو جو خط لکھا اس کا ایک جملہ یہ تھا : You are paying the price of being sensitive. (تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو) راقم الحروف کو یہ پسند نہیں کہ ہم حساس نہ ہوں۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم حساس ہوں تاکہ ہم تڑپیں۔ تاکہ ہم ملک کے حالات کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوں، تاکہ ہم اس کے متعلق زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچیں، اور ملک کو بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کی فکر کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ نئے ہندوستان کا آغاز ۴۷ ۱۹ سے ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے یہ ملک یورپی قوموں کے سیاسی اور اقتصادی استحصال کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ مہاتما گاندھی (۱۹۴۸- ۱۸۶۹) نے ہندوستان کو سیاسی بنیاد (Political base) عطا کی۔ اس کے بعد جواہر لعل نہرو (۱۹۶۴-۱۸۸۹) نئے ہندوستان کے وزیر اعظم ہوئے اور انھوں نے ملک کے لیے صنعتی بنیاد (Industrial base) فراہم کی۔ اس سے پہلے ہندوستان کی جو حالت تھی اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حکومتی فیصلہ کی قوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page