Urdu book · تعمیر انسانیت

اصلاح کی طرف

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکی باشندوں کے ہاتھہ میں نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی ترقی کا کام بہت دیر سے شروع ہو سکا ہندوستان میں ریلوے کا آغاز برٹش دور میں ۱۸۵۳ میں ہوا ۔ اور بہت جلد سارے ملک میں ریلوے لائن کا جال بچھا دیا گیا ۔ مگر سڑکوں کی ترقی ۷۰ سال تک رکی رہی ۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر حکومت کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے الفاظ میں : Little attention was paid to road development until the 1920s, mainly ۲۰ کے بعد کے سالوں سے پہلے روڈ کی ترقی پر بہت کم توجہ دی جاسکی ۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ (برطانی) حکومت نے اس سے پہلے اپنی ساری توجہ ریلوے پر لگا رکھی تھی ۔ برطانی حکومت ریل کی پٹریوں کو لوہے کی زنجیریں سمجھتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ان زنجیروں کے ذریعہ وہ ملک پر اپنے قبضہ کو زیادہ دیر تک باقی رکھ سکے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ریلوے لائنیں بچھانے پر خصوصی توجہ دی ۔ مگر سڑکیں بنانے پر وہ توجہ نہ دے سکی۔ ملک کو سیاسی غلامی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ سڑکوں کی تعمیر کے معاملہ میں وہ پیچھے ہو گیا جو کہ قومی ترقی کے لیے موجودہ زمانہ میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں ۔ دوسری مثال صنعت کی ہے ۔ ہندوستان میں اکثر معدنی ذخیرے (Mineral resources) افراط کے ساتھہ موجود ہیں ۔ یہاں صنعتی ایندھن (کوئلہ) بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ دنیا کے لوہے (Iron-ore) کے ذخائر کا ۷۲ حصہ صرف ہندوستان کی زمین کے نیچے موجود ہے ۔ اس کے باوجود ملک کی آزادی سے پہلے اس کی صنعتی ترقی ممکن نہ ہوسکی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے یہاں ایک بیرونی قوم کا قبضہ تھا ۔ وہ ہندوستان کو اپنی صنعتی سامانھوں کی منڈی بنائے ہوئے تھے ۔ ۱۹۴۷ میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد یہاں باہر کا سامان در آمد کرنے پر پابندیاں لگائی گئیں ۔ اور ملکی صنعت کو ترقی کے موقعے دیئے گئے ۔ چنانچہ ہندوستان تیزی سے صنعتی میدان میں آگے بڑھا ۔ یہاں تک کہ اب وہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جانے لگا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاسی اور صنعتی اعتبار سے ملک اب ترقی کے اگلے اسٹیج پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page