اصلاح کی طرف
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
آتی ہے : Prime Minister Rajiv Gandhi today said building factories and dams was useless if the quality of human beings was not good. The Hindustan Times, September 12, 1986. وزیر اعظم راجیو گاندھی نے کہا کہ کار خانے اور بند بنانا بے فائدہ ہے اگر انسانوں کے اندر اچھی خصوصیات نہ ہوں۔ مثلاً ملک میں بجلی اور زراعت کی ترقی کے لیے ہمیں ایک ڈیم بنانا ہے۔ اب ایک ضرورت یہ ہے کہ ملک آزاد ہوتا کہ وہ کسی خارجی دباؤ کے بغیر خود اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کر سکے ۔ یہ ضرورت ملک کی سیاسی آزادی سے پوری ہو جائے گی ۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعمیر کے لیے ضروری ٹکنالوجی موجود ہو ۔ یہ ضرورت ہمارے وہ ٹیکنکل ماہرین پوری کر دیں گے جو انجینئرنگ کالجوں سے ڈگری لے کر نکل رہے ہیں ۔ مگر اچھے ڈیم کی تیاری کے لیے صرف یہی دو چیزیں کافی نہیں ۔ اسی کے ساتھ ایک تیسری چیز بھی ہے جو لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ ہے دیانت داری (Honesty) اگر کام کرنے والے افراد کے اندر دیانت داری کا مادہ نہ ہو تو سیاسی آزادی اور ٹیکنکل قابلیت کے باوجود وہ ڈیم تیار نہ ہو سکے گا جو فی الواقع ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ دیانت داری نہ ہونے کی صورت میں یہ ہو گا کہ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کر کے ایک ارب روپیہ ٹھیکیداروں اور انجینیروں اور افسروں کے ہاتھ میں دے گی ۔ مگر وہ روپیہ کا ایک حصہ اپنی جیب میں رکھنے کی خاطر یہ کریں گے کہ وہ غیر معیاری لوہا استعمال کریں گے ۔ وہ ریت اور سمنٹ کا تناسب غلط کر دیں گے ۔ وہ پیسہ بچانے کے لیے ہر چیز میں کمی کرتے رہیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بظاہر ڈیم تو بن کر تیار ہو جائے گا۔ مگر لوہے اور سمنٹ (RCC) کی تعمیر کے باوجود وہ مضبوط نہ ہو گا ۔ بے پناہ خرچ اور سالوں کی منصوبہ بندی کے بعد اُدھر ڈیم بن کر کھڑا ہو گا اور اِدھر خبریں آنے لگیں گی کہ اس کا فلاں حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس کے فلاں حصہ میں شگاف ہو گیا ہے ۔ بے پناہ خرچ کے بعد ایک پل بن کر کھڑا ہو گا اور اگلے سال خبر ملے گی کہ وہ ٹوٹ کر گر پڑا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader