اصلاح کی طرف
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
پہونچ رہا ہے ۔ ہندوستان کی سیاسی بنیاد اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ "تیسری دنیا" کے ملکوں کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی صنعتی بنیاد اتنی گہری ہو چکی ہے کہ ۱۹۸۵ء سے اس نے الیکٹرانک دور میں داخلہ کا آغاز کر دیا ہے ۔ پہلے ہندوستان کو یہ ڈر رہتا تھا کہ امپورٹ کار استہ کھولنے سے اس کی اندرونی صنعت برباد ہو جائے گی ۔ اور اب ملک کو اس حد تک اعتماد پیدا ہو چکا ہے کہ وہ امپورٹ کی پابندیاں کم کرنے کے بعد بھی یہ اعتماد رکھتا ہے کہ وہ بیرونی صنعتوں کا مقابلہ کرکے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ باتیں بلاشبہ اچھی ہیں۔ یہ ہر ہندوستانی کے لیے خوشی کا باعث ہیں کہ پچھلے ہم سال میں ملک نے سیاسی اور صنعتی بنیاد حاصل کر لی۔ مگر ہندوستان کی حقیقی ترقی کے لیے ابھی ایک اور مشکل تر مرحلہ باقی ہے ۔ اور وہ یہ کہ ملک کو اخلاقی بنیاد (Moral base) عطا کی جائے۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ فیصلہ کن حد تک اہم ہے۔ اگر یہ بنیاد فراہم نہ ہو تو بقیہ میدانوں کی ترقیاں بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گی ۔ یہاں ہم سابق وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک اقتباس نقل کریں گے ۔ انھوں نے اپنے سوانح نگار مائیکل بریچر کو انٹرویو دیتے ہوئے ۱۹۵۶ء میں کہا تھا : What constitutes a good society? I believe in certain standards. Call them moral standards. They are important in any individual and in any social group. And if they fade away, I think that all the material advancement you may have will lead to nothing worthwhile. How to maintain them, I can't know. Nehru, A Political Biography, By Michael Brecher, p. 607 وہ کیا چیز ہے جو ایک اچھا سماج بناتی ہے ۔ میں کچھ متعین معیاروں میں عقیدہ رکھتا ہوں ۔ آپ ان کو اخلاقی معیار کہہ سکتے ہیں ۔ وہ ہر شخص اور ہر سماجی گروہ کے لیے اہم ہیں ۔ اور اگر وہ باقی نہ رہیں تو میرا خیال ہے کہ آپ نے جو بھی مادی ترقی حاصل کی ہو وہ بے قیمت ہو کر رہ جائے گی ۔ اس اخلاقی معیار کو کس طرح حاصل کیا جائے ، اس کا جواب مجھے نہیں معلوم ۔ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم کی ایک تقریر اخبارات میں حسب ذیل الفاظ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader