Urdu book · تعمیر انسانیت

ترقی اور اتحاد

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

ناکامی کی علامت ۔ کمال اتا ترک کو ترکی میں ۱۹۱۹ میں اقتدار ملا اور ۱۹۳۸ تک (۱۹ سال) جاری رہا۔ کمال اتا ترک نے چاہا کہ ترکی اور یورپ کی دوری کو مٹا دے اور ترقی کے نقشہ پر دونوں کو یکساں مقام دیدے۔ اس کا کاراز اس نے "کلچرل یکسانی" میں دریافت کیا۔ اس نے ریاستی قوت کے ذریعہ یہ کوشش کی کہ ترکی کے لوگ یورپ والوں کی طرح ہیٹ اور پتلون پہنیں۔ وہ اہل یورپ کے آداب اختیار کریں۔ حتیٰ کہ کمال اتا ترک نے ترکی زبان کا رسم الخط بدل کر اس کو یورپی رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا جو اس سے پہلے عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ وغیرہ ۔ کمال اتا ترک نے ان " اصلاحات " کو بزور پورے ترکی میں نافذ کر دیا۔ مگر ان اصلاحات کے نفاذ پر تقریباً ستر سال گزرنے کے بعد بھی ترکی بدستور ایک مریض اور پسماندہ ملک ہے ۔ یورپ کے نقشہ میں وہ ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس مثال لینن کی ہے۔ لینن کو روس میں ۱۹۱۷ میں اقتدار ملا اور ۱۹۲۴ تک (۷ سال) جاری رہا۔ حالات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے جانا کہ موجودہ زمانہ کی اصل طاقت سائنس ہے ۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ روس میں بڑے پیمانہ پر ایک دارالترجمہ قائم کیا۔ جس کے کارکنوں کی تعداد بعد کے مرحلہ میں ، ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس نے حکم دیا کہ جرمن ، فرنچ ، انگلش وغیرہ زبانوں سے تمام سائنسی کتابوں کا ترجمہ روسی زبان میں کیا جائے ۔ یہ کام اعلیٰ پیمانہ پر شروع ہو گیا اور برابر جاری رہا۔ یہ صحیح رخ پر صحیح اقدام تھا۔ چنانچہ روس کو اس کا یہ فائدہ ملا کہ وہ آج دوسرے پاور میں سے ایک سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ ہے تدبیر کا فرق ۔ کمال اتا ترک نے ترکی اور یورپ کے درمیان کلچر کے فرق کو مٹانا چاہا۔ مگر دونوں کے درمیان کلچر کے فرق کو مٹا دینے کے بعد بھی اس کو کچھ حاصل نہ ہو سکا ۔ اس کے برعکس لینن نے روس اور یورپ کے درمیان علم وشعور کے فرق کو مٹانے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ جب یہ فرق مٹا تو روس دنیا کی دوسری سب سے بڑی طاقت بن چکا تھا۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ ہمیں غیر متعلق کارروائیوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ ہماری کارروائیوں کی تکمیل کے بعد بھی اصل مسئلہ وہیں باقی رہے گا جہاں وہ آج ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page