ترقی اور اتحاد
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
چند مثالیں ہمارے آس پاس جو واقعات ہیں ان کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نہایت آسانی کے ساتھ سمجھی جاسکتی ہے کہ کلچر کا فرق یا کلچر کی یکسانیت اضافی چیزیں ہیں۔ ایکٹ سے ان کا کوئی لازمی تعلق نہیں۔ چند مثالیں لیجئے۔ بمبئی میں پارسی اور ہندو ہزار برس سے ایک ساتھ رہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ پارسی سماج ایک بند سماج ہے۔ وہ لوگ اپنے سے باہر شادی بیاہ کو صحیح نہیں سمجھتے چنانچہ بمبئی کے ہندوؤں اور پارسیوں میں آپس میں شادی بیاہ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مثال اس سے مختلف ہو تو وہ ایک نادر استثناء ہے نہ کہ کوئی عام قاعدہ۔ اس کے باوجود آج تک وہاں کبھی ہندوؤں اور پارسیوں میں لڑائی نہیں ہوئی۔ دونوں کے درمیان معیاری حد تک پر امن تعلقات ہیں۔ اس کے برعکس مثال ہندوؤں اور سکھوں کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں میں باہمی شادی کا بے روک ٹوک رواج تھا۔ مگر انھیں دونوں فرقوں میں آج پنجاب میں اتنے بڑے پیمانہ پر لڑائی ہو رہی ہے جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوں۔ یہ سلسلہ بھنڈراں والا (پنجاب)، اور آپریشن بلو اسٹار (اپریل ۱۹۸۶) کے وقت سے پوری شدت کے ساتھ جاری ہے، اور ہر قسم کی کوششوں کے باوجود ابھی تک وہ ختم نہ ہوسکا۔ اسی طرح مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمام فرقوں کی زبان ایک ہو جائے تو اس کے بعد لوگوں کے درمیان یکتا پیدا ہو جائے گی۔ مگر یہ بھی ایک غیر متعلق اور غیر مفید تجویز ہے۔ سوئزر لینڈ میں کئی زبانیں رائج ہیں۔ ان میں سے تین زبانوں کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے ــ فرنچ ، جرمن، اٹالین۔ مگر زبانوں کی کثرت کے باوجود ان کے درمیان کامل اتحاد اور ایکتا پایا جاتا ہے۔ بلکہ سوئزر لینڈ موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ پرامن ملک ہے۔ اس کے برعکس مثال پاکستان کی ہے۔ وہاں باقاعدہ طور پر صرف ایک سرکاری زبان ہے، یعنی اُردو۔ اس کے باوجود پاکستان میں اتنے زیادہ باہمی جھگڑے ہیں کہ پاکستان کے قیام پر چالیس سال سے زیادہ بیت گئے مگر آج تک وہاں کا جھگڑا ختم نہیں ہوا۔ اسی طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یک جہتی اور اتحاد کا تعلق لوگوں کی سوچ سے ہے نہ کہ ان کے ظاہری رسوم اور آداب سے۔ ملک کے باشندوں میں اگر صحیح سوچ موجود ہو اور وہ زنا" گزارنے کا راز جانتے ہوں تو وہ ظاہری فرق کے باوجود مل جل کر رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader