Urdu book · تعمیر انسانیت

ترقی اور اتحاد

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین و آسمان میں ہے ، خوشی سے یا ناخوشی سے ) دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمین میں انسان کو بسایا گیا ہے وہ ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ اس کے تمام اجزاء صحیح ترین کارکردگی پر قائم ہیں۔ ان میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ اس نافذ شدہ نظام اصلاح سے مطابقت کر کے زمین پر زندگی گزارے۔ اگر وہ اس نقشہ سے مطابقت نہ کرے تو یہ زمین پر فساد برپا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ کسی مجموعہ کا ایک جزو اگر مجموعہ سے مطابقت کر کے رہے تو نظام درست رہے گا۔ اور اگر مجموعہ کا کوئی جزو، اصل مجموعہ کے غیر مطابق ہو جائے تو پورا نظام بگڑ جائے گا۔ یہ اصلاحی نقشہ میں فساد برپا کرنے کا موجب بن جائے گا۔ اس کو ایک لفظ میں کائناتی پیٹرن کہا جا سکتا ہے۔ جو کائناتی پیٹرن کائنات کو کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے، وہی انسان کے لیے بھی مفید اور کامیاب ہے۔ دوپہلو وہ چیز جس کو ہم نے کائناتی پیٹرن کہا ہے، اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک فنی (ٹیکنکل) پہلو، دوسرا اخلاقی (ایتھیکل) پہلو۔ جہاں تک کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو کا تعلق ہے، اس معاملہ میں انسان نے عین وہی کیا ہے جو اسے از روئے واقعہ کرنا چاہیے۔ وہ اس معاملہ میں حد درجہ سنجیدہ ہے۔ وہ انتہائی محنت سے اس کو دریافت کرتا ہے اور اس کی کامل پیروی کرتا ہے۔ کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو سے وہ ادنی درجہ میں بھی انحراف نہیں کرتا، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ٹیکنکل پہلو کی کامل پیروی ہی کے ذریعہ وہ تمدنی ترقیاں حاصل کر سکتا ہے۔ مگر کائناتی پیٹرن کے اخلاقی پہلو کے بارہ میں اس کا رویہ یکسر مختلف ہے۔ یہاں وہ پیروی کے بجائے انحراف کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے ایک سادہ سی مثال لیجیے۔ اس ہال میں ہمارے سامنے دو واقعے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page