Urdu book · تعمیر انسانیت

لا قانونیت کا مسئلہ

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

کی قیادت نے ابتدا یہ فیصلہ کیا کہ اس کو مہاتما گاندھی کے بتائے ہوئے اصولی راستہ پر چلنا ہے۔ چنانچہ اس کے مطابق ملک کا دستور بنایا گیا۔ اور ۲۶ جنوری ۱۹۵۶ء کو اس کے باقاعدہ نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔ اب بظاہر ملک کے مستقبل کی تعمیر دستور ہند کی رہنمائی میں ہونی چاہئے تھی۔ مگر یہاں ایک رکاوٹ پیش آگئی۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت کے نیچے بیٹھ کر جو کچھ کاغذ پر لکھا تھا وہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر نہ لکھا جا سکا۔ کاغذی دفعات کے مطابق ملک کا مذہب سیکولر زم تھا، مگر عوامی رجحان کے مطابق ملک کا مذہب بدستور فینٹیزم (مجنونانہ قوم پرستی) بنارہا۔ اس تضاد کا اظہار پچھلی تقریباً نصف صدی کے دوران مختلف صورتوں میں ہوتا رہا ہے۔ یہ صورت حال ملک کے لیڈروں کے لیے سخت آزمائش تھی۔ کاغذ کے اوپر خوبصورت دفعات لکھنے کے لئے بازار کی سیاہی کافی ہے۔ مگر زندگی میں ان دفعات کے عملی نفاذ کے لئے اس قربانی کی ضرورت تھی جس کو ڈیگل کے نام پر گال انم کہا جاتا ہے۔ ہمارے لیڈروں نے پہلا کام تو کیا، مگر وہ دوسرا کام نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ دستور ہند کے الفاظ ملک کی حقیقی زندگی میں واقعہ نہ بن سکے۔ ملک میں جو دستور بنایا گیا تھا وہ حقیقتاً ارکان اسمبلی کی سطح پر بنایا گیا تھا وہ وسیع تر سطح پر عوامی رجحانات کا نمائندہ نہ تھا۔ اس لئے بہت جلد دونوں کے درمیان ٹکّر اوپیش آگیا۔ دستور کے الفاظ شہریوں کے درمیان مساوات کا اعلان کر رہے تھے۔ مگر ملکی عوام تعصب اور امتیاز کے راستہ پر چلتے رہے۔ دستور کے الفاظ ہر ایک کے لئے یکساں انصاف کی ضمانت دے رہے تھے مگر عوامی رجحان کا تقاضا تھا کہ اپنوں کے ساتھ ایک سلوک کیا جائے اور غیروں کے ساتھ دوسرا سلوک۔ یہاں ملکی حکمراں وں کو دستور کا ساتھ دینا تھا نہ کہ عوامی خواہشات کا۔ مگر انہوں نے دیکھا کہ اگر وہ دستور ہند کے بتائے ہوئے راستہ پر چلیں تو وہ اپنے حق میں عوام کی سیاسی حمایت کھودیں گے، اگلے الکشن کے موقع پر انہیں عوام کا ووٹ حاصل نہ ہو سکے گا۔ وہ عوامی خواہشات کے آگے جھک گئے اور دستور کو پس پشت ڈال دیا۔ اگر چہ یہ دستور ہی تھا جس کے ساتھ وفاداری کا حلف لے کر وہ حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page