Urdu book · تعمیر انسانیت

لا قانونیت کا مسئلہ

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

تعمیر قوم کی ضرورت ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو مہاتما گاندھی کا قتل ہوا تو اس وقت میں اعظم گڑھ میں تھا۔ اگلے دن شہریوں کی طرف سے ایک جلسہ ہوا جس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ مقامی ایس کے پی کالج کے ہند پرنسپل نے اس موقع پر جو تقریر کی تھی وہ اب تک مجھے یاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے واقعہ پر مختلف اخبارات نے اپنے اپنے انداز میں سرخی لگائی ہے۔ مگر مجھے امت بازار پتریکا کی سرخی سب سے زیادہ پسند آئی جو اس طرح تھی: Gandhi sacrificed by fanaticism (گاندھی جنونیوں کے ہاتھوں ہلاک)، اس میں شک نہیں کہ مہاتما گاندھی کے حادثہ کے بارے میں یہ صحیح ترین سرخی تھی، آزادی کے بعد ہندوستان میں دور رجحانات کا مقابلہ تھا گاندھی ازم اور فینٹیرزم۔ اس مقابلہ میں فینٹیرزم کو کامیابی ہوئی، گاندھی ازم ناکام ہو کر رہ گیا۔ ملک کی تقسیم بلاشبہ غلط تھی۔ مگر اس سے بھی زیادہ غلط بات یہ تھی کہ تقسیم کے بعد لوگ اس کے ردعمل سے اپنے آپ کو بچانہ سکے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد ہندوؤں کی ایک جماعت مہاتما گاندھی کی سخت مخالف ہوگئی۔ اس نے مہاتما گاندھی کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اولأمدن لال نے مہاتما گاندھی پر دستی بم پھینکا مگر وہ نشانہ پر نہیں پہنچ سکا۔ اس کے بعد اس کے ساتھی ناتھورام گوڈسے نے پستول کی گولی سے مہاتما گاندھی کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد ۹ آدمیوں پر مقدمہ چلایا گیا جو ۶ ماہ سے زیادہ مدت تک جاری رہا۔ اس موقع پر بیان دیتے ہوئے مدن لال نے جو کچھ کہا تھا ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کو اس بات کا غصہ تھا کہ مہاتما گاندھی کے اصرار پر ہندوستانی حکومت نے پاکستان کو اس کے حصہ کا ۵۵ کروڑ روپیہ دے دیا۔ اس واقعہ نے گوڈسے کوشتل کر دیا: Madan Lal said he was angered by the Indian Union’s payment of 550,000,000 rupees to Pakistan. This exasperated Godse. Louis Fischer, The Life of Mahatma Gandhi Harper & row Publishers, 1983, New York, p. 504 آزادی کے بعد صرف ساڑھے چار مہینہ کے اندر پیش ہونے والا یہ واقعہ ملک کے لئے ایک چیلنج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page