نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے باوجود خلفار بالکل سادہ زندگی گزارتے تھے۔ اس کا اعتراف تمام مورخین نے کیا ہے۔ مانگومری واٹ (W. Montgomery Watt) نے لکھا ہے کہ مسلم خلفاء جو اب ایک وسیع بادشاہت کے حکمران تھے ، وہ اب بھی مدینہ میں بے حد سادہ طریقہ سے رہتے تھے : The ruler of what was now a vast empire still lived a very simple life in Medina, and had not so much as a bodyguard. The Majesty That Was Islam, (1984) خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ کے حکمران تھے ، مگر جسم پر معمولی کپڑا ہوتا تھا، جس میں اکثر پیوند لگا رہتا تھا۔ پانی کی مشک کندھے پر رکھ کر چلتے تھے۔ پتھر کا تکیہ سر کے نیچے رکھ کر زمین پر سو جاتے تھے۔ معمولی کھانا کھاتے اور معمولی گھر میں رہتے۔ ایک بار احنف بن قیس ان سے ملنے کے لیے مدینہ آئے تو دیکھا کہ معمولی حالت میں ادھر سے اُدھر دوڑ رہے ہیں۔ احنف نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے، اس کو تلاش کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ امیرالمومنین ہیں ۔ آپ خود کیوں یہ زحمت اٹھار ہے ہیں۔ آپ نے کسی غلام کو حکم دے دیا ہوتا، وہ اس کام کو کر ڈالتا۔ حضرت عمر نے جواب دیا : اَی عَبۡدُ اعۡبُدُ نِی کون ہے جو مجھ سے بڑھ کر غلام ہو۔ سلطنت کا حا کم ہونے کے باوجود اپنے کو عام آدمیوں سے ایک آدمی سمجھنا، اعلیٰ ترین حاکمانہ اخلاق ہے، مگر اس حاکمانہ اخلاق کی عملی مثال اسلامی تاریخ کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔ حضرت عمر فاروق کا زمانہ خلافت ۶۳۴ء سے ۶۴۴ء تک ہے ۔ انھیں کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا۔ اس فتح کے موقع پر فلسطین کے مسیحی ذمہ داروں کی طلب پر، حضرت عمر نے مدینہ سے فلسطین کا سفر کیا۔ یہ سفر ایک عظیم سلطنت کے عظیم حکمران کا تھا۔ مگر وہ اتنا سادہ تھا کہ اس کے آگے سادگی کا مزید تصور نہیں کیا جاسکتا۔ عبداللہ اتھل جو فلسطین کی جنگ (۱۹۲۸) میں شریک تھے ۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader