نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پیغمبر اسلام کا جسم بولتے بولتے خاموش ہو گیا۔ مگر انھیں یقین نہیں آیا کہ یہ آپ کی وفات کا واقعہ ہے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ ایک قسم کی روحانی معراج کا واقعہ ہے آپ اپنے رب کے پاس گئے ہیں اور جلد ہی دوبارہ زمین پر واپس آئیں گے۔ وہ اس معاملہ میں کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے حتی کہ حضرت ابوبکر صدیق کی بھی نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مسجد نبوی میں داخل ہو کر ان کو چپ ہونے کے لیے کہا۔ مگر وہ چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔ ان کا ہاتھ تلوار کے دستہ پر تھا اور ان کی زبان بے تکان بولے چلی جا رہی تھی۔ یہ لمحہ تھا جب کہ حضرت ابوبکر صدیق مسجد نبوی میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ انھوں نے حضرت عمر فاروق کی آواز پر اپنی آواز کو تیز کرتے ہوئے اپنی تقریر شروع کر دی۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق تقریر کرتے ہوئے اس آیت تک پہنچے : وَمَا مُحَمَّدُ اِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل اَفَاَِّمَاتَ اَوْ قُتِلَ اِنْقَلَبْتُمْ عَلَى اَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِى الله الشَّاكِرِينَ ۔ ( محمد تو صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ مرجائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۔ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو ضرور بدلہ دے گا۔ قرآن کی اس آیت کا سننا تھا کہ فوراً حضرت عمر فاروق ٹھنڈے ہو گئے۔ بعد کے زمانہ میں انھوں نے اپنا اس وقت کا حال بتاتے ہوئے کہا : وقعتُ علی الارض و ما تحملني رجلای ( میں زمین پر گر پڑا، میرے پاؤں میرا بوجھ نہ سنبھال سکے) اس واقعہ میں انسان عبدیت کے آخری مقام پر نظر آتا ہے۔ عبدیت یہ ہے کہ انسان خدا کے آگے ڈھیر پڑے ۔ حضرت عمر فاروق یہی انسان ثابت ہوئے ۔ وہ خدا کا کلام سن کر بالکل لفظی طور پر زمین پر گر پڑے۔ اپنی رائے کو انھوں نے اپنے دماغ سے اس طرح نکال دیا جیسے کہ وہ ان کے دماغ میں کبھی بھی ہی نہیں۔ یہ اعتراف حق کی بلند ترین مثال ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد کس طرح آدمی کو اس کے آگے جھک جانا چاہیے۔ سادہ زندگی اسلامی خلفاء کے زمانہ میں دولت اور اقتدار دونوں چیزوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader