Urdu book · تعمیر انسانیت

نمونہ انسانیت

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

ایلیام ، لكم مالنا وعليكم ماعلينا ) عمر فاروق کا یہ سفر تمام دنیا کے حکمرانوں کے لیے بلاشبہ آخری اور کامل ترین نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ احترامِ انسانیت خلیفہ ثانی عمر فاروقؓ کے زمانہ میں حضرت عمرو بن العاص مصر کے گورنر تھے ۔ انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی ۔ اس دوڑ میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا ۔ مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم ) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا ۔ مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایسا جملہ کہا جو گورنر کے صاحبزادے (محمد بن عمرو بن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا ۔ مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا : خذھا وانا ابن الاکرمین ( یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں ) حضرت انس بن مالک اس قصہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مصری (غیر مسلم ) مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمر و جس حال میں ہوں ان کو لے کر مدینہ آؤ۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : این المصری ، دونك الدرة فاضرب بھا ابن الاکرمین (مصری کہاں ہے ۔ یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادہ کو مارو ) اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحبزادے کو مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا ، یہاں تک کہ ان کو زخمی کر دیا ۔ حضرت عمرؓ درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو جب وہ خوب مار چکا تو حضرت عمر فاروقؓ نے کہا کہ ان کے والد عمر وبن العاص کے سر پر بھی مارو ، کیوں کہ خدا کی قسم ان کے بیٹے نے صرف اپنے باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا تھا ۔ فو اللہ ماضربک ابنہ الا بفضل سلطانہ ) مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین ، جس نے مجھے کو مارا تھا اس کو میں نے مار لیا۔ اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں ۔ حضرت عمرؓ نے کہا : خدا کی قسم اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو ۔ پھر آپ نے عمرو بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا : یا عمر و ، متی استعبد تم الناس وقد ولدتھم امھاتہم احراً ( اے عمرو ، تم نے کب سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page