نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کو غلام بنا لیا، حالاں کہ ان کی ماں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا) ابن جوزی، سیرۃ عمر بن الخطاب یہ واقعہ انسانی احترام اور انسانی برابری کی آخری اعلیٰ مثال ہے۔ اس واقعے نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہرقسم کے فرق کو عملاً ختم کر دیا۔ اس نے انسانی عدل و انصاف کی ایسی نظیر قائم کر دی جس کے آگے انسانی عدل و انصاف کا کوئی اور درجہ نہیں۔ بے غرضی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں قحط پڑا اور لوگ سخت پریشان ہوگئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ نہ گھبراؤ۔ اللہ جلدی تمہارے لئے کشادگی کی صورت پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا تجارتی قافلہ شام سے آیا، اس میں ایک ہزار اونٹ تھے اور سب کے سب گیہوں اور کھانے کی چیزوں سے لدے ہوئے تھے۔ یہ خبر مدینہ میں پھیلی تو شہر کے تاجر عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آئے۔ ان کے پاس ایک چادر تھی جس کو وہ اپنے کندھے پر اس طرح ڈالے ہوئے تھے کہ اس کا ایک سراسامنے کی طرف لٹک رہا تھا اور دوسرا سراپیچھے کی طرف۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگ کیوں آئے ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ تاجروں نے کہا: ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ کے پاس ایک ہزار اونٹ گیہوں اور غذائی سامان آیا ہے۔ ہم ان کو خریدنا چاہتے ہیں۔ آپ ہمارے ہاتھ یہ غذائی سامان بیچ دیں تا کہ ہم اس کو مدینہ کے ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اندر آؤ اور گھر میں بیٹھ کر بات کرو۔ وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ غذائی اشیار کے ایک ہزار ڈھیر گھر کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔ اب بات چیت شروع ہوئی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری شام کی خریداری پر تم مجھ کو کتنا زیادہ نفع دو گے ۔ انھوں نے کہا: دس درہم پر بارہ درہم۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے، انھوں نے کہا: دس درہم پر چودہ درہم۔ حضرت عثمان نے کہا مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا اچھا دس درہم پر پندرہ درہم۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کون آپ کو اس سے زیادہ دے رہا ہے۔ جب کہ مدینہ کے جتنے تاجر ہیں سب یہاں جمع ہیں۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو ہر ایک درہم کے بدلے دس درہم مل رہا ہے۔ پھر کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو۔ انھوں نے کہا نہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ اللہ نے اپنی کتاب پاک میں فرمایا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader