نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
جب انہیں خلافت ملی تو صورت حال یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ جو اس وقت شام کے حاکم تھے، انھوں نے خلافت سے باقاعدہ بغاوت کردی۔ خون عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر انھوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ کر لیا۔ حضرت حسن بن علی نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ چالیس ہزار کی فوج ان کے ساتھ ہے اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے ساتھ بھی تقریباً اتنے ہی آدمی تھے۔ یہ دونوں فوجیں جوش وجذبۃ سے بھری ہوئی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے بے قرار تھیں۔ مگر حضرت حسن نے سوچا کہ یہ دونوں کے دونوں مسلمان ہیں۔ جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ وہ قیمتی افراد جو اسلام کے جھنڈے کے نیچے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے شرک کا خاتمہ کریں وہ خود اپنے آپ کو اور اسی کے ساتھ اسلامی تاریخ کو ختم کر ڈالیں گے۔ حضرت حسن کی حیثیت جائز خلیفہ اسلام کی تھی۔ جب کہ امیر معاویہ کی حیثیت یقینی طور پر باغی کی تھی مگر حضرت حسن نے بجاطور پر یہ اندازہ لگایا کہ حضرت امیر معاویہ کسی قیمت پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ وہ ہر حال میں لڑائی کو جاری رکھیں گے خواہ اس کا نتیجہ مسلم سپاہیوں کی عام بربادی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ حضرت حسن نے خود اپنے آپ کو جھکانے پر راضی کر لیا۔ مسلمانوں کو باہمی قتل وخون سے بچانے کے لیے انھوں نے یک طرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوجائیں۔ یہ حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہاں انسان حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین سطح پر نظر آتا ہے، وہ سطح جہاں انسان اپنے آپ کو حذف کر کے سوچ سکتا ہے۔ حضرت حسن نے اپنے آپ کو حذف کر کے سوچا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو راضی کر سکے جس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ عدل و انصاف حضرت عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ - ۶۲ھ) پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا: تمھارے خلیفہ کا یہی روز کا کھانا یہی ہے۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لئے ایک سو سپاہی مقرر تھے، جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسرے سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا: میری حفاظت کے لئے تفاض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader