نمونہ انسانیت
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
امیر المومنین غلط بیانی کر رہے ہیں ، یہ زرہ میری ہے۔ قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا کہ محض آپ کے دعوے کی بنا پر میں ایسا نہیں کر سکتا کہ زرہ اس سے لے کر آپ کو دیدوں ۔ آپ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت لائیے ۔ حضرت علی نے کہا کہ شریح کا مطالبہ درست ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے حق میں دو گواہ پیش کیے۔ ایک ، اپنے غلام قنبر کو ، اور دوسرے ، اپنے لڑکے حسن کو ۔ قاضی شریح نے کہا کہ میں قنبر کی گواہی کو تو مان رہا ہوں، مگر میں حسن کی گواہی کو نہیں مانتا۔ حضرت علی نے کہا کہ تم حسن کی گواہی نہیں مانتے ، حالانکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ قاضی شریح نے کہا کہ وہ الگ چیز ہے۔ دنیوی معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ والد کے حق میں اولاد کی گواہی معتبر نہیں۔ حضرت علی خلیفہ تھے اور وہ قاضی کو معزول کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔ مگر انہوں نے قاضی کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ اور زرہ کے بارہ میں اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ نصرانی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ چیخ اٹھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ پیغمبروں کے احکام ہیں کہ امیر المومنین ایک عام آدمی کی طرح مقامی کی عدالت میں آئے اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے ۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ یہ واقعہ علی کی ہے۔ ایک بار وہ علی کے اونٹ سے گر گئی تھی تو میں نے اس کو اٹھالیا۔ اب حضرت علی نے وہ زرہ اسی شخص کو دے دی اور اس کو مزید سات سو درہم عطا کیے۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو کر حضرت علی کے ساتھ رہا یہاں تک کہ صفین کے معرکہ میں شہید ہو گیا ( حیات الصحابہ، الجز، الاول، صفحه ۴۴-۴۳۵) یہ واقعہ اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ حکمران افراد اور عام انسان دونوں قانون کی نگاہ میں برابر ہیں۔ قانون کی عدالت میں دونوں کو یکساں حاضر ہونا چاہیے اور دونوں کے اوپر قانون کا فیصلہ یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ حقیقت پسندی حضرت حسن حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے۔ وہ اسلامی تاریخ کے پانچویں خلیفہ تھے ۔ انھیں تمام شرعی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق خلافت پر قائم رہنے کا حق حاصل تھا۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader