مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف انھیں اکثریت کے چیلنج کا سامنا ہے دوسری طرف ان کا ایک بڑی اقلیت ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اکثریت کے مقابلہ میں یکسر مغلوب ہو کر نہ رہ جائیں۔ اس صورت حال نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بہترین موافق پوزیشن (advantageous position) میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ ایک مثال یہاں میں ایک مثال درج کروں گا جس سے اس معاملہ کی وضاحت ہوتی ہے۔ یہ مثال انڈونیشیا اور ملیشیا کی ہے۔ میں نے اپنے ایک بیرونی سفر کے دوران انڈونیشیا کے ایک سنیئر پروفیسر سے پوچھا کہ انڈونیشیا اور ملیشیا دونوں پڑوسی ملک ہیں مگر ملیشیا کے مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں جو ترقی کی ہے، انڈونیشیا کے مسلمان وہ ترقی نہ کر سکے۔ مذکورہ پروفیسر نے جواب دیا کہ اس کا سبب دونوں کے مختلف حالات میں پایا جاتا ہے۔ ملیشیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا عددی تناسب تقریباً ففٹی ففٹی کا ہے۔ اس بنا پر وہاں مسلسل چیلنج کی حالت قائم رہتی ہے۔ وہاں کے مسلمان ہر وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انھوں نے غفلت کی تو فریق ثانی آگے بڑھ جائے گا اور وہ ایک پچھڑا ہوا گروہ بن کر رہ جائیں گے۔ یہ نفسیات ملیشیا کے مسلمانوں کو مسلسل متحرک رکھتی ہے۔ ان کا زیادہ عمل ان کی ترقی کی ضمانت بن گیا ہے۔ انڈونیشیا کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہاں کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۹۰ فیصد ہے۔ اس عددی اکثریت نے وہاں کے مسلمانوں کے اندر تحفظ کا احساس (sense of security) پیدا کر دیا ہے۔ یہ احساس ان کے لئے جمود کا سبب بن گیا ہے۔ چنانچہ ان کی صلاحیتیں زیادہ بیدار نہ ہو سکیں۔ وہ محنت کش بننے کے بجائے سہولت پسندی کی زندگی کے عادی بن گئے۔ اور جس قوم کا یہ حال ہو جائے وہ کبھی کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتی۔ بر صغیر ہند میں اگر اس اصول کو منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان گویا انڈونیشی مسلمانوں کے مانند ہیں، اور انڈیا کے مسلمان ملیشیائی مسلمانوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader