مستقبل کی قیادت
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
مانند..... بلکہ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمان اس معاملہ میں ملایشیا کے مسلمانوں سے بھی زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کیونکہ ملایشیا مسلمانوں کو ایک مساوی گروہ کی طرف سے چیلنج در پیش ہے، جب کہ انڈیا کے مسلمانوں کو عددی اعتبار سے ایک برتر گروہ کا سامنا کرتے ہوئے زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس فرق کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انڈیا کے مسلمانوں میں مقابلہ کی اسپرٹ جتنی زیادہ بیدار ہو گی وہ اس سے زیادہ ہو گی جو ملایشیا کے مسلمانوں میں بیدار ہوتی ہے۔ ان حالات کی بنا پر ہندستانی مسلمان ایک عظیم امکان کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ امکان کہ وہ فطرت کے اشارہ کو سمجھیں اور اس کو استعمال کر کے نہ صرف ہندوستان کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک نئے دور کے نقیب بن جائیں۔ بیسویں صدی کا جائزہ بیسویں صدی میں دنیا کے نقشہ پر کئی قو میں ابھریں جنھوں نے عالم انسانی کی قیادت کا رول ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے تین خاص طور پر قابل ذکر ہیں--- سوویت یونین، امریکہ، ہندوستان۔ مگر یہ تمام طاقتیں یا تو عملاً نا کام ہو چکی ہیں یا وہ ناکامی کے کنارے کھڑی ہوئی ہیں۔ ۱۹۱۷ میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا، اس کے بعد سوویت یونین کی شکل میں اس کا ایک عظیم امپائر بن گیا۔ تقریباً ۷۴ سال تک شان و شوکت دکھانے کے بعد اس کا یہ حال ہوا کہ ۱۹۹۱ میں وہ ریت کے محل کی طرح ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظام سر تاسر غیر فطری بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ خدا نے اس دنیا کا نظام مسابقت (Competition) کے اصول پر قائم کیا ہے۔ مگر کمیونسٹ امپائر نے اس کو ختم کر کے ریاستی کنٹرول کی مصنوعی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ نظام اول دن ہی سے قابل عمل نہ تھا۔ کچھ دن تک وہ جبر اور پروپیگنڈہ کے زور پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ خود اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر منہدم ہو گیا۔ امریکی نظام تقریباً دو سو سال سے بدستور ابھی تک چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader