Urdu book · تعمیر انسانیت

توحید۔ انسانیت کی منزل

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے اور وہی ہے بلند مرتبہ والا اور بڑا (آل عمران۔۲۵۵) خدا کی پرستش کرنا اپنے خالق ومالک کی پرستش کرنا ہے جو واقعی طور پر انسان کی پرستش کا حق دار ہے۔ اس کے برعکس کوئی آدمی جب غیر خدا کے آگے سر جھکاتا ہے تو وہ اپنے جیسی ایک مخلوق کے آگے سر جھکاتا ہے جو اس کا حقدار نہیں کہ اس کے آگے سر جھکایا جائے ۔ خدا کی پرستش انسان کو عظمت عطا کرتی ہے اور غیر خدا کی پرستش اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ خدا کی پرستش انسان کو حقیقت پسند بناتی ہے اور غیر خدا کی پرستش اس کو توہمات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خدا کی پرستش سے معرفت حق کے دروازے کھلتے ہیں اس کے برعکس آدمی جب غیر خدا کی پرستش کرتا ہے تو وہ حق کی معرفت کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔ توحید صرف ایک ہے، مگر شرک کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ موحد انسان کا مرکز توجہ اور مرکزِ عبودیت صرف ایک خدا ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور اپنی پوری زندگی میں اسی ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنائے ہوئے رہتا ہے۔ مگر مشرک انسان کا کوئی ایک مرکزی نقطہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ شرک کی بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں۔۔۔ ستارہ پرستی، زمین پرستی، بت پرستی، ارباب پرستی، قبر پرستی سے لے کر نفس پرستی، دولت پرستی، اقتدار پرستی، مفاد پرستی، اولاد پرستی وغیرہ یہ تمام چیزیں درجہ بدرجہ غیر اللہ کی پرستش میں شامل ہیں۔ اور قرآن میں ان کی کھلی مذمت کی گئی ہے۔ موحد انسان وہ ہے جو ہر قسم کی بر تر حیثیت صرف ایک خدا کو دے۔ اسی سے اپنی مراد مانگے۔ اسی کے سامنے مراسمِ پرستش بجالائے، اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرے، اسی کو ہر اعتبار سے برتر حیثیت دے۔ پرستش کسی سے تعلق کے اظہار کا آخری درجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرستش کی تمام صورتیں صرف ایک خدا کا حق ہیں۔ پرستش کی نوعیت کی کوئی چیز کسی غیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page