توحید۔ انسانیت کی منزل
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے لئے جائز نہیں۔ آدمی جب خدا کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ ایک ایسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے جو حقیقی طور پر موجود ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بنائے تو اس نے ایک ایسی چیز کو اپنا معبود بنایا جس کا واقعات کی دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، خواہ بظاہر اس نے اس مفروضہ معبود کی ایک صورت بنا کر اپنے سامنے رکھ لی ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا معبود بنائے اس نے طاقت کے حقیقی سر چشمہ کو پالیا۔ اس کے برعکس جو آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بناتا ہے وہ ایک ایسے توہاتی مفروضہ سے اپنا رشتہ جوڑتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ خدا کا عبادت گزار ابدی سعادت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر خدا کے عبادت گزار کے لئے ابدی محرومی کے سوا کوئی اور چیز نہیں۔ خدا کا ئنات کا نور قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (النور ۳۵) یعنی اس پوری کائنات میں جہاں بھی کوئی روشنی ہے وہ خدا کی ذات سے ہے۔ خدا اگر روشنی نہ دے تو کہیں اور سے کسی کو بھی روشنی ملنے والی نہیں۔ سورج اگر نہ ہو تو زمین پر ہر طرف اندھیرا چھا جائے۔ اسی طرح اگر ستارے نہ ہوں تو ساری کائنات گہری تاریکی میں ڈوب جائے۔ خدا نے ساری کائنات میں بے شمار تعداد میں انتہائی روشن قسم کے متحرک اجسام پھیلائے ہیں جو کائنات کے ہر حصہ کو مسلسل طور پر روشنی کا تحفہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ کائناتی نظام نہ ہو تو دنیا اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تاریکی کا ایک بھیانک غار بن جائے گی۔ یہ مادی روشنی کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ فکری اور روحانی روشنی کا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو ضرورت ہے کہ اس کے ذہن کو وہ رہنمائی ملے جس کی روشنی میں وہ صحیح طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader