مذہب امید
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل ہے کہ انسان اس یقین کے ساتھ اس کو اختیار کر سکے کہ اس نے اس سچائی کو پا لیا ہے جس کی تلاش اس کی فطرت میں پیشگی طور پر موجود تھی۔ اسلام ایک متلاشی روح کا حقیقی جواب ہے۔ وہ انسان کی شخصیت کی تکمیل ہے۔ وہ انسان کو وہ غیر متزلزل یقین دیتا ہے جس کے سہارے وہ دنیا میں زندہ رہ سکے۔ اسلام آدمی کی قبل از موت زندگی کو بھی با معنی بناتا ہے اور اس کی بعد از موت زندگی کو بھی۔ زندگی ایک قیمتی موقع زندگی اگر صرف وہی ہے جو موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو ملتی ہے تو بلا شبہ وہ اتنی زیادہ بے معنی ہے کہ اس سے زیادہ بے معنی چیز اور کوئی نہیں۔ انسان لا محدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہو تا ہے۔ مگر دنیا میں وہ اپنی ان صلاحیتوں کا پانچ فیصد حصہ بھی استعمال نہیں کر پاتا کہ وہ مر جاتا ہے۔ انسان کے اندر تمناؤں اور آرزوؤں کی ایک کائنات بسی ہوئی ہے۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی ان تمناؤں اور آرزوؤں کی تکمیل اس دنیا میں نہیں کر پاتا۔ تمام موجودات اور مخلوقات میں انسان واحد مخلوق ہے جو مستقبل کا تصور رکھتا ہے۔ مگر تمام انسان ابھی اپنے حال میں ہوتے ہیں کہ ان کی دنیوی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، بغیر اس کے کہ انھوں نے اپنے مستقبل کو پایا ہو ۔ ہر انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے کامیاب زندگی کا حریص ہے، مگر یہاں کوئی بھی انسان اپنی کامیابی کو نہیں پاتا۔ بظاہر انسان کے لئے صرف یہ المناک انجام مقدر ہے کہ وہ اپنی کامیابی کی تاریخ بنانے سے پہلے اس دنیا سے چلا جائے۔ اسلام اس اندھیرے میں انسان کے لئے ایک روشنی ہے۔ اسلام کا جنت کا تصور آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ کس طرح وہ اپنی ناکامی کو کامیابی سے بدلے۔ کس طرح وہ اپنے خوابوں کے اس مستقبل کا مالک بنے جہاں وہ اپنی شخصیت کی تکمیل (fulfillment) کو پا سکے۔ حقیقت کا یہ انکشاف جو اسلام کے ذریعہ کیا گیا ہے وہ ہر آدمی کے لئے زندگی کو ایک قیمتی موقع بنا دیتا ہے۔ اب ہر آدمی ایک مطلوب منزل دریافت کر لیتا ہے جس کی طرف وہ چل سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader