Urdu book · تعمیر انسانیت

مذہب امید

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی ایک ایسے نشانے کو جان لیتا ہے جس کو وہ اپنی تمام سرگرمیوں کا مرکز تو جہ بنا لے۔ دونوں حالتوں میں صبر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبت من قضاء اللہ عزوجل للمؤمن ان اصابه خير حمد ربه و شكر وان اصابته مصيبة حمد ربه وصبر المومن يوجر فی کل شی (مسند الامام احمد بن حنبل ۱/۳۷۱) یعنی مومن کے معاملے میں اللہ کا فیصلہ کیسا عجیب ہے۔ اگر اس کو بھلائی پہونچتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اگر اس کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح مومن کو ہر چیز میں اجر ملتا رہتا ہے۔ مومن سے مراد وہ انسان ہے جس کا شعور پوری طرح بیدار ہو چکا ہو جس کی سوچ اس حد تک ترقی کر چکی ہو کہ وہ ہر پیش آنے والی صورت حال پر مثبت جواب (positive response) دے سکے۔ وہ قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے والا بن چکا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا کہ یہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظام کی بنا پر ممکن ہوا ہے۔ یہ چیز اس کو حقیقت پسند بناتی ہے اور اس کو نظام خداوندی کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کو کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے تب بھی اس کا ترقی یافتہ شعور اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ اس کا ذہنی سکون نہ ٹوٹے۔ وہ فریاد یا شکایات کے بجائے صبر و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔ موجودہ دنیا میں یہ مزاج آدمی کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ ہمیشہ اعتدال پر قائم رہے۔ وہ ہر نہیں میں اپنے لئے ایک ہے کار از دریافت کرلے۔ اس کی زندگی کبھی تعطل سے دو چار نہ ہو۔ اس کی امیدوں کا چراغ کبھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page