Urdu book · تعمیر انسانیت

مذہب امید

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

یک طرفہ ہوتی ہے۔ وہ فریق ثانی کی شخصیت کے ایک پہلو کو دیکھ کر اس سے بیزار ہو جاتا ہے حالانکہ اگر وہ فریق ثانی کے دوسرے پہلو کو دیکھے تو اس کے بارے میں اس کی رائے بالکل بدل جائے۔ مثال کے طور پر ایک شوہر اپنی بیوی کو ظاہری خصوصیات میں کم پاتا ہے اور اس بنا پر وہ اس کو ناپسند کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس کو جاننا چاہئے کہ یہی اس کی بیوی کی کل شخصیت نہیں، عین ممکن ہے کہ ظاہری کمی کے باوجود اس کی شخصیت میں اندرونی اخلاقی صفات بہت زیادہ موجود ہوں۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کسی خاتون کے اندر سیرت و کردار کے اعلیٰ اوصاف ہونا خاندانی زندگی کے لئے زیادہ اہم حیثیت رکھتا ہے۔ فطرت کا نظام قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوا ہے کہ : لقد خلقنا الانسان في كبد (ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے) اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کے بارے میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا تھا کہ دنیا میں تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ بعضکم البعض عدو (البقره (۳۶) قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف (suffering) موجودہ دنیا کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ خود خالق فطرت کا مقرر کیا ہو ا نظام ہے۔ اس لئے اس کو ختم کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ یہ انسانیت کے نام قرآن کا ایک عظیم فکری تحفہ ہے۔ انسان اگر اس راز کو نہ جانے تو وہ غیر حقیقت پسند بنارہے گا، وہ غیر ضروری طور پر ہمیشہ یہ کوشش کرے گا کہ وہ اپنے لئے ایک بے مشقت دنیا یا خرابیوں سے پاک سماج (evil-free society) بناسکے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوگا۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مگر جب وہ اس حقیقت کو جان لے گا تو وہ مسائل کے ساتھ جینے کی کوشش کرے گا اور پھر وہ اسی طرح اپنی پسند کی ایک دنیا بنالے گا جس طرح ایک درخت کانٹوں کے باوجود پھولوں اور پتیوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page