مذہب امید
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ اپنی ایک پرکشش دنیا بنا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے مسائل انسان کے لئے مصیبت نہیں۔ وہ انسان کے لئے ترقی کا زینہ ہیں۔ یہ مسائل انسان کو بیدار کرتے ہیں۔ وہ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو حرکت میں لاتے ہیں۔ وہ اس کے جمود کو توڑ کر اس کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کی ضمانت ہیں۔ مسائل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ وہ ایک مفید حصہ ہیں نہ کہ کوئی مضر حصہ۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں وہ بے فائدہ چیزوں میں اپنی طاقت کو ضائع نہیں کریں گے۔ وہ زندگی کی اعلیٰ تعمیر میں یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔ اقلیت کے لئے خوشخبری قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن الله والله مع الصابرین (البقرہ ۲۴۹)۔ یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں، اللہ کے اذن سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، اس قانون کے مطابق اس دنیا میں عددی اکثریت والا گروہ اگر بظاہر برتر دکھائی دیتا ہے تو عددی اقلیت والا گروہ امکانی طور پر اس سے بھی زیادہ برتر حیثیت رکھتا ہے۔ اس دنیا میں فطرت کا قانون اکثریت سے زیادہ اقلیت کے حق میں ہے۔ اس آیت میں اقلیتی گروہ کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ اس کو اپنی عددی کمی کی بنا پر ناامیدی اور پست ہمتی کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اذن اللہ (قانونِ فطرت) پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے اندر پرامید سوچ پیدا کرے۔ یقینی ہے کہ کامیابی آخر کار اسی کو حاصل ہوگی۔ اقلیتی گروہ کس طرح اکثریتی گروہ پر غالب آ سکتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جس سماج میں ایسا ہوتا ہے وہاں اکثریتی گروہ اقلیتی گروہ کے خلاف ایک مسلسل چیلنج بن جاتا ہے۔ اکثریتی گروہ زندگی کے ہر میدان میں اقلیتی گروہ کو للکارنے لگتا ہے کہ اگر تم کو جینا ہے تو ہوشیار ہو جاؤ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader