محبت فاتح عالم
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بجائے صلح کا طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام ﷺ نے فرمایا: ان اللہ رفيق ، يحب الرفق، ويعطى عليه ما لا يعطى على العنف (سنن ابی داؤد، الجزء الرابع، صفحہ ۲۵۵)۔ یعنی اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ اور وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ قرآن میں ایک مقام پر فطرت کا ایک اصول اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔ (حم السجدہ ۳۴۔ ۳۲) اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر حق کی طلب فطری طور پر رکھ دی ہے۔ کوئی شخص یا کوئی گروہ اگر حق کے داعیوں کا دشمن بن جائے تو یہ اس کی مصنوعی حالت ہوگی نہ کہ اس کی حقیقی حالت۔ امکانی طور پر وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح حق کا طالب ہوگا اگرچہ بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہوگا کہ وہ حق کا دشمن ہے۔ ایسی حالت میں حق کے داعیوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مخالفانہ روش کو نظر انداز کر کے ان سے اعتدال کے ساتھ معاملہ کریں، وہ محبت اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو حق کا پیغام پہنچاتے رہیں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ وہ حق کو قبول کر لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لئے اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ظاہری عناد کا پردہ ہٹا دیا جائے۔ اور پردہ ہٹانے کا یہ کام صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ جوابی عناد کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔ پیغمبروں کا طریقہ دشمن کو دوست بنانا ہے نہ کہ دشمن کو دشمن قرار دے کر اس سے کٹ جانا۔ یہی ہمیشہ ہر پیغمبر کی تعلیم رہی ہے۔ اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس معاملہ کی صرف اصولی تعلیم نہیں دی بلکہ آپ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader