محبت فاتح عالم
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
دور رہتے ہوئے اپنا مشنری کام پر امن طور پر کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۳۳۶ء میں رومی حکمراں کا نسٹنٹین اول (Constantine I) نے مسیحیت کو قبول کر لیا۔ یہ الناس علی دین ملو کہم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ تھوڑی مدت میں یورپ کی بیشتر آبادی نے مسیحیت کو قبول کر لیا۔ رومی بادشاہ نے ۳۳۶ء میں مسیحیت کو قبول کیا تھا اور اس کے بعد ۶۱۰ء میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کو خدا کی طرف سے نبوت ملی۔ اس طرح رومی بادشاہ کی قبولیت مسیحیت کا واقعہ نبوت محمدی سے تقریباً ۷۳ سال پہلے پیش آیا۔ اسلام کی تعلیم پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیم بھی وہی ہے جو دوسرے پیغمبروں اور حضرت مسیح کی تعلیم تھی ۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو عرب کے باہر مختلف ملکوں میں بھیجا تاکہ وہ حاکموں اور سرداروں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اس وقت آپ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ عیسی ابن مریم نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کی دعوت دی تھی جس کی دعوت میں تم کو دے رہا ہوں (دعا هم الى الذى دعوتكم اليه) سیرت ابن هشام الجزء الرابع، صفحه ۷۸۲ قرآن (الانبياء ۱۰۷) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام ﷺ کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے (وما ارسلناك الا رحمة للعالمين) اسی طرح قرآن (آل عمران ۱۵۹) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے دل میں خصوصی طور پر سختی کے بجائے نرمی کا مادہ رکھ دیا (فبما رحمة من الله لنت لهم) ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو تم لوگ دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (ايها الناس لا تتمنوا لقاء العدو وأسألوا الله العافية) رياض الصالحين ۳۲۸ اسلامی طریق عمل کو اگر ایک نام دینا ہو تو اس کو پر امن عمل (peaceful activism) کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے کہ : الصلح خیر (النساء ۱۲۸) یعنی نزاع کے وقت ٹکراؤ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader